کاشف اُنگلی کا استحصال
Kashif Ungli ka Istehsaal
Kashif was being squeezed
Written by Bilal Hussain
تحریر : بلال حسین
کاشف کو چڈی بھی میسر نہ تھی
Kashif Ungli Ko Chaddi bhi Muyassar Na Thi
Kashif never had underwear
کرکٹ سلیکشن کے دن کے بعد کاشف اُنگلی ناراض محبوبہ کی طرح منہ پھلا بیٹھا ، چنانچہ ہم نے کاشف اُنگلی کی لٹکی ہوئی پینٹ کو دیکھ کر اندازہ لگا لیا کہ کاشف اُنگلی کے ساتھ گھر والوں نے کیا کم زیادتی کی ہے کہ اسے پینٹ خرید کر دے دی ، شناختی کارڈ بنوا کر بالغ و جوان ہونے کا اعلا ن کروادیا لیکن پینٹ کے ساتھ کبھی آج تک ایک چڈی نہ دلائی ،اسی وجہ سے کاشف اُنگلی کالج میں سب سے منفرد طالب علم بھی تھا ۔ کاشف اُنگلی کی ذاتی زندگی کے مسائل ایسے تھے کہ سننےکے بعد مسائل دوسرے روز مزید بڑھ جاتے تھے اسی لئے ہم نے کاشف اُنگلی کے مسائل سننا چھوڑ دیے تھے ۔ بہرحال کاشف اُنگلی آٹھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور کاشف کو اسی بات پر شدیدغصہ بھی تھا کہ وہ "بڑا "ہے ۔
کاشف کے پیروں میں پھنسی ہوئی عزت
Kashif Ke Pairon Ma Phansi Hui Izzat
Self-esteem was trapped in bare feets
چھوٹے سے گھر کے چھوٹے اور تنگ کمروں میں کاشف اُنگلی کھل کر کپڑے بھی نہیں بدل پاتا تھا ، اکثر وہ جب بھی پینٹ کو اتارنے کی غرض سے جھکتا اورپینٹ پنجوں سے نکلنے کو تیار ہوجاتی لیکن اسی لمحے کوئی نہ کوئی چھوٹا بھائی پلنگ کے نیچے سے نکل کر کاشف اُنگلی کی اُتری ہوئی عزت کا مذاق اڑاتےے ہوئے ، چیختے ہوئے برآمد ہوتا تھا اور کاشف پر غصہ غالب اور وہ شدید غصیلے انداز میں میں بھائی کو مارنے کے لئے دوڑ پڑتا جس پر اکثر بہن بھائی بھی کاشف کے برہنہ دھڑ کا تالیاں بجا کر تمسخر اُڑایا کرتے ۔پینٹ بدلتا کیا نہ کرتا کاشف کی روزمرہ زندگی میں بہت بڑی اُنگلی تھی جو وہ آئے روز برداشت کرتا اور آگے بڑھتا۔
واش روم ہے کہ اوپن وائی فائی
Washroom Hai K Open Wi-Fi
An unsafe Wi-Fi is like unlocked
washroom
یہاں تک کہ گھر کے اکلوتے
واش روم کے دروازے کی کنڈی بھی اوپن وائی فائی کی طرح تھی جو بھی چاہے اندر آجائے ،
کاشف اُنگلی کے نہاتے وقت اکثر چھوٹے بھائیوں کو زور کا پیشاب لگتا اور وہ واش روم
میں پیشاب کر نے کے بعد کاشف اُنگلی کا پھر سنگین مذاق اڑاتے کہ "بھائی ننگا نہا
رہا ہے "اب ان معصوموں کو کون سمجھائے کہ نہایا تو ننگا ہی جاتا ہے لیکن ہمارا
بیچارا کاشف ، ننگا نہائے کیسے اور چھپائے کیا ؟کاشف اُنگلی کے ساتھ یہ زیادتی اور
ننگا استحصال چلتا ہی رہتا ہے۔
کھلی ہوئی زپ اور آنکھوں میں آنسوؤں کی چمک
Khuli Hui Zip Aur Ankhon Ma Ansuon Ki Chamak
A weird pain of unzipped pants, utterly unexplainable
ایک دن تو حد ہی ہوگئی کاشف
اُنگلی کی آنکھوں میں آنسوؤں کی چمک دیکھ کر جتنا غصہ تھا ، پریشانی تھی سب اڑ گئی
اور بے ساختہ ہنسی آگئی ۔ کاشف اُنگلی نے خونخوار نظروں سے دیکھا کہ ہم اس پر ہنس رہے
ہیں اور وہ درد ناک انداز میں روہانسہ ہے ۔ کیونکہ کاشف اُنگلی کو چڈی دستیاب نہ تھی
اور اسی وقت کاشف اُنگلی کی آنکھوں میں چمکتا ہوا آنسو اور پینٹ کی کھلی ہوئی زپ سے
اندازہ ہورہا تھا کہ شاید کوئی بیچ میں پس گیا ہے ۔
پیوستہ ءِشجر سے اُمیدِ نواں رکھ ، آٹھ کے بعد نواں ۔
Pawasta e Shajar Se Umeed e Nawan Rakh, Aath Ke Baad Nawan (The Ninth)
Between The Devil And The Deep Blue Sea
کھانسی کا شربت جام سے کم تھوڑی تھا
بہر حال کاشف اُنگلی نے بتایا کہ کالج میں جاری سیمسٹر(semester) کی تیاری کرنے پر اسے اس کے
ابو نے خوب مارا پیٹا ہے ۔ ہمارے تعجب کی انتہا ہوگئی اب تو ۔ کاشف اُنگلی نے مزید
سڑھی ہوئی شکل بنا کر بتایا کہ جب وہ رات گئے دیر تک پڑھ رہا تھا تو اس کے ابا نے اس
بات پر اسے خوب مارا کہ تو سوتا کیوں نہیں ہے ۔ یہ دنیا کا پہلا باپ تھا جو پڑھائی
کرنے کر تشدد کر رہا تھا ۔ کاشف اُنگلی کا بیگ اٹھا کر ہم اس سے ہمدردی کرنے کی لگے
تھے کہ کاشف اُنگلی زور سے چیخ کر بولا اور اپنا بیگ بڑی احتیاط اور خوف کے ملے جلے
تاثر سے کھولنے لگا ، ہم سب حیرت زدہ تھے کہ کاشف اُنگلی آرام آرام سے بیگ کے اندر
رکھی تین عدد کھانسی کے سیریپ کی بوتلوں کو چیک کر رہا تھا ۔ ہمارا تجسس بڑھا اور ہم
نے ۔کاشف اُنگلی سے پوچھا کہ اتنی ساری بوتلیں کیا خود کشی تو نہیں کر رہے ہو ؟ تو
کاشف اُنگلی بولا کہ میرے گھر پھر نیا بہن یا بھائی آنے والا ہے یہ سبھی اسی کے لئے
ہے ۔ ہم نے کہا کہ ہماری کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ نیا بہن یا بھائی یہ سیرپ کیسے پئیے
گا ۔ کاشف اُنگلی بولا کہ یہ پیدا ہونے والے بہن یا بھائی کے لئے نہیں ہے بلکہ جو بہن
بھائی پیدا ہوچکے ہیں ان کے لئے ہے تاکہ یہ کھانسی کا سیرپ پئیں اور گہری نیند سوجائیں
اور ابو امی جاگ سکیں ۔
نیز بوجھل اور مایوسی کے
ساتھ کاشف اُنگلی نے بتایا کہ وہ بھی سیرپ پی کر سوجاتا ہے کیونکہ اسے ماں باپ کی عزت
کا اتنا ہی خیال ہے جتنا اس کے ماں باپ کو آنے والی اولاد کی فکراور ویسے بھی دو
نا پسندیدہ حالات کے درمیان انتخاب کا معاملہ جو ٹھہرا ۔
Bilal Hussain بلال حسین



