پیر، 5 دسمبر، 2022

نیٹ فلکس سے بدل جائے گی زندگی - بلال حسین

 

آپ کی سوچ اور نیٹ فلکس ۔

بدل جائے گی زندگی

ذرا سا وقت لگائیں کہ آج کیا دیکھنا چاہیئے

از -بلال حسین

نیٹ فلکس انٹرنیٹ اسٹریمنگ سروس او ٹی ٹی ویب سیریز
Courtesy  Netflix

اگر آپ او ٹی ٹی ، انٹرنیٹ اسٹریمنگ سرویسز (یعنی نیٹ فلکس، ایمے زون ، ہاٹ اسٹار، وغیرہ ) لینے کے بعد

 بھی ویک اینڈ پر فیصلہ نہیں کرپاتے ہیں کہ کونسا سیزن یا کونسی مووی دیکھنی چاہیئے تو آیئے آ پ کو کچھ ٹپس

 دیتا ہوں جو بہت لوگوں کے لئے کارآمد ثابت ہوں گے اور کچھ کے لئے  کم مفید لیکن کام ضرور کریں گے ۔ 



سنگل

دوستوں کی لائف والے سنگل نوجوان افراد ۔

Single Netflix Web Series OTT Bollywood Prime Amazon Hotstar Urdu Blogs Top Ten Internet Streaming Services
Courtesy Rotten Tomatoes Web Site :100 Best Netflix Series to Watch (December 2022)


آپ اگر سنگل singleہیں اور آپ کی شادی نہیں ہوئی ہے تو آپ کے دوست سب سے بڑا ذریعہ ہیں جوآپ کو سمجھتے ہیں کہ آپ کو کس قسم کی موویز دیکھنی چاہیئے اور آپ کیا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اور اگر آپ نےکوئی ایسی سیریز web seriesدیکھ لی ہے یا دیکھ رہے ہیں جو آپ کو بہت زیادہ متاثر کر رہی ہے تو اپنےدوستوں سے ضرور شئیر share کریں کیونکہ اس بات سے بات نکلے گی اور کوئی نہ کوئی ایسی دوسری سیریزseriesکا آپ کو پتہ لگ جائے گا جو آپ نے نہیں دیکھی ہےاور آپ اسے دیکھنا چاہیں گے  ۔ دوست ہی ہیں جن کے ساتھ آپ سیریز یا موویز series or moviesکے کرداروں charactersکو کھل کرdiscussڈسکس کرسکتے ہیں کیونکہ اگر آپ کسی بات کو چھپائیں گے تو آپ وہ مزہ نہ لے پائیں گے جس کے  آپ اہل ہیں ۔ 


وہ افراد جو کسی رشتے سے منسلک ہیں ، منگنی ہوگئی ہے یا مستقبل کے جوڑے

The People who are in some relationship or Engaged

Netflix for relationship couples OTT Urdu Blogs Web Series
Courtesy Cosmopolitan Web Site : 

The 62 Best Netflix Shows to Binge-Watch With Your Boo


اب آتا ہے نمبر ایسے افراد جو کسی relationshipریلیشن شپ میں ہوتے ہیں یا پھر ہمارے ہاں انہیں

منگنی شدہ engagedافراد کہا جاتا ہے جو انگیج engageہوتے ہیں ۔  آ پ کے لئے سب سے پہلے تو یہ کہنا

چاہوں گا کہ آپ کی محبت کا تعلق بہت اچھا ہےاور آپ ایک دوسرے کےجذبات emotionsاور

احساسات feelingsکی قدر کے ساتھ ، جانتے بھی ہیں تو آپ کے لئے یقینا یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں ہوگا

کہ آج کیا دیکھا جائے   ؟

یہاں آپ کو اپنے مزاج کے خلاف بھی جانا پڑسکتا ہے لیکن یقین جانیئے کہ ویب سیریز web seriesکا

مزاج ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی جونرا genreیا مزاج moodکی ہو ، آپ کو اپنا مداح fanبنا لیتی ہے،

یوں کہہ لیجئے  کہ آپ اُس کے رسیا addictبن جاتے ہیں ۔ اپنی پسند کے genres کو ضرور discuss

کریں کیونکہ اس سے نا صرف آپ ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیں بلکہ آپ کی زندگی lifeکے وہ

پہلوبھی ایک کے بعد کھلتے جائیں گے جن پر شاید آپ کبھی کھل کر بات نہیں کرپائیں ۔ یہی موقع ہے کہ

آپ اپنے اندر کے اُن جذبات کا کھل کر اظہار کریں جو کیفیات آپ کو ویب سیریز دیکھتے ہوئے ابھرتی ہیں 

۔ کیونکہ آج کل کی ویب سیریز نے حقیقت realityکا رنگ اوڑھ لیا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ ویب سیریز

انسانی جذبات اور احساسات کی اصل ترجمانی کر رہی ہیں ۔

 آپ اپنے ہونے والے لائف پارٹنر life partnerکے ساتھ شئیر کریں کہ آپ کو ویب سیریز میں کیا

پسند آیا ہے اور کیا پسند ہے ۔ بات سےبات کھلے گی اور آپ کومزید genres اور سیریز کو ایکسپلور

exploreکرنے کا ٹائم timeملے گا ۔ 




شادی شدہ افراد Married۔ کپلز  couples

مڈل کلاس ، سب سے زیادہ محنت کرنے والے افراد ۔


Netflix Couples Cuples Married Marital Status Social Drama OTT Web Series
Courtesy Scrolldoll Website : 10 Best Romanctic Web Series That Will Make You Go Aww

پاکستان جیسے ملک اور خاص طور پر کراچی کے رہائشی ، باشندے جو شادی شدہ marriedہوں اور مڈل

کلاس middle class, working classسے تعلق رکھتے ہو تو اُن کی زندگی ویسے ہی ایک ویب سیریز

بن کر رہ گئی ہے ۔ برا مت منایئے گا یہ تمہید اس لئے باندھی ہے کہ آپ کے روز مرہ کے کچھ دکھوں میں

شاید لمحے بھر کے لئے کمی آسکے اور آپ لمحے بھر کو مسکرا سکیں کہ کوئی تو ہے جو ہمارے بارے میں سوچتا

ہے ۔ چلیں اب بات کرلیتے ہیں ویک اینڈ پر انٹرنیٹ اسٹریمنگ سروسز internet streaming

servicesکی  ۔ ویک اینڈ weekendپر وقت محدود ہوتا ہے کہ آپ کیا دیکھنا چاہتے ہیں ، ورکنگ ڈیز

workind daysمیں متعدد severalموویز moviesاور ویب سیریز کے ٹریلرز trailersاور ٹیزرز

teasersدیکھ چکے ہوتے ہیں لیکن اکثر فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کہ کیا دیکھا جائے ۔ میاں

بیویhusband wife کے تعلقات اچھے ہیں اور آپ سب کچھ اپنی بیوی اور اپنے شوہر سے شئیر کرتی

ہیں تو یقینا آپ کو اس بار بھی اپنے لائف پارٹنر کے ساتھ یہ بات کرنی چاہیے کہ ہمیں یا آپ کو کیا پسند ہے

۔ آپ دونوں کا چاہیے کہ ویک اینڈ سے پہلے ہی ایک سیریز کے بارے میں فیصلہ کرلیں اور پلان بھی بنا لیں

۔

ویب سیریز کو اس طرح سے ایکسپلور کریں کہ آپ کو حقیقت کا گمان بھی ہو اور آپ کو دیکھنے میں لطف بھی

آرہا ہو ۔ یعنی اگر آپ اپنی معاشرت اور اُن کے کرداروں  سے ملتی جلتی سیریز کا انتخاب کرتے ہیں تو آپ

آگے جا کر بہت سی نئے genresاور categories کو explore کرسکتے ہیں جو حقیقت میں آپ کی بڑی

کامیابی ہوگی کیونکہ حقیقت پر مبنی فلموں ( ویب سیریز ، ڈراموں ) ، ناولوں کو پڑھنے سے آپ کے اندر کی

آگہی بڑھ رہی ہوتی ہے جو شعور کی منزلوں تک پہنچاتی ہیں اور وہاں آپ  ایک گھر تیار کر رہے ہوتے ہیں

جسے ہم wisdom houseکہتے ہیں ۔ اپنے وزڈم ہاؤس کو تیار کرنے میں احتیاط برتیں کیونکہ اگر آپ نے

غلط قسم کا کونٹینٹ  content دیکھنا شروع کردیا  تو آپ کی زندگی اور سوچ متضاد بن جائے گی ۔ میری بات

بالکل عامیانہ اور غیر اہم لگے لیکن اگر آپ کی سوچ کسی بھی کتاب کا مطالعہ کرنے سے اُسی کے مطابق بن

سکتی ہے تو پھر دیکھی جانے والی سیریز اور ڈرامے بھی آپ کی سوچ کو بدل سکتے ہیں ۔ اسی لئے یاد رکھیں کہ

آپ کا ہر آنے والا دن آج کی دنیا میں بہت اہم ہیں ۔

اپنے لائف پارٹنر کے ساتھ حقیقت پر مبنی سیریز کے ساتھ فینٹیسی fantasy کو بھی انجوائے enjoy

کریں تاکہ پریشانیوں اور تفکرات سے لبریز زندگی میں ، اس ہنگامی زندگی میں کچھ لمحے ٹھہراؤ اور امن

آسکے ۔ 


بچوں کے ساتھ نیٹ فلکس پر کیا دیکھیں ؟

Netflix with children OTT webseries bollywood
Courtesy Scrolldoll Web site : 25 Family Friendly Web Series You Can Enjoy With Kids and Family

یہ بہت بڑا ٹاسک taskہے اور یہیں سے آپ کی حکمت wisdomاور ذہانت intelligencyکا امتحان شروع ہوتا ہے  ۔ امریکہ  کی ہالی وڈ hollywoodایک ایسی انڈسٹری industryہے جو تمام انسانوں کو ایک آنکھ سے دیکھتی ہے یا پھر سب کے ساتھ انصاف کرتی ہے ۔ لہذا آپ اپنے بچوں کے لئے کسی بھی animationمووی کا انتخاب کرسکتے ہیں کیونکہ اُن میں ذہانت ، بہادری ، نیکی اور بہت سی چھوٹی چھوٹی ایسی باتیں موجود ہوتی ہیں جو بچے بڑوں سب کے لئے بہت ضروری ہوتی ہیں ۔ ہم دیکھنے سے سیکھتے ہیں اور بچوں کو وہی دکھائیں جو انہیں ایک اچھا انسان بنا سکے ۔ اِس دنیا میں اچھے انسانوں کو تیار کرنا اب آپ جیسے والدین کا ٹاسک ہے ۔ اِسے روزانہ کی بنیادوں پر سر انجام دیں ۔ موویز ، ویب سیریز سے وہ جملے اخذ dialogues extractionکریں ، وہ جملے tensesاپنی روز مرہ کی زندگی daily lifeکا حصہ بنائیں جو آپ کی زندگی میں مسکراہٹیں لا سکیں اور آپ کو پریشانیوں اور مشکل وقت میں مدد ے سکیں ۔

میری زندگی کی سب سے بہترین فلم تھی "فائنڈنگ نیمو " Finding Nemo ، جب میری بیٹی چھوٹی تھی اور اِس مووی کو دیکھ کر ہمیں (میاں بیوی ) کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ۔

 

Family Movie Time فیملی مووی

پوری فیملی مل کر انجوائے کریں

Enjoying Netflix Family OTT web series
Courtesy Scrolldoll Web site : 25 Family Friendly Web Series You Can Enjoy With Kids and Family


اسی طرح اب باری آتی ہے فیملی مووی ٹائم family movie timeکی ۔ یہ بہت سمپل فارمولا simple formulaہے ۔ فیملی موویز movies familyبھی بچوں کی فلموں جیسی ہونی چاہیئں ۔ جس میں ڈرامہ ہو، حکمت ہو ، ذہانت ہو اور ایک ایسا میسج messageہو جسے دیکھ کر ، سننے کے بعد آپ اندر سے یہ محسوس کرسکیں کہ آپ کی زندگی میں یہ کمی رہی ہے یا آپ یہ کام کرنا چاہتے ہیں بس اپنی معاشرت کے حساب سے اِ س کام کو یا اِس بات کو کرنا سیکھ لیں۔ 


 

پیر، 31 اکتوبر، 2022

بہترین "ان دیکھی" - سونی لو ویب سیریز Undekhi SONY LIV Series 2 Seasons

 ان دیکھی ۔2 سیزن 
سونی لو ۔ Sony Liv

کرائم  (2 Seasons)

اَن دیکھی کی کہانی گھومتی ہے ایک قتل کے گرد لیکن بہت سارے کرداروں کی زندگیاں جڑی ہوتی ہیں اس ایک قتل کی پراسرار کہانی کے ساتھ ۔ خوبصورت پہاڑوں کے دامن میں فلمائی گئی ان دیکھی ویب سیریز ایک ہائی ریٹڈ ویب سیریز ہے ۔ اداکاری سے لے کر عکس بندی تمام ڈیپارٹمنٹ کی محنت اسکرین پر اپنی مثال آپ ہے ۔ اداکاروں کی بات کی جائے تو ہر ایک کردار حقیقت سے بہت قریب ہے بلکہ دیکھتے رہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے سامنے ا ِس معاشرے کے کردار واقعتاً گھوم رہے ہیں ۔ 

ان دیکھی ویب سیریز سونی لیو اردو بلاگز پاکستان بھارت انڈیا
Sony LIV Originals - UnDekhi
Courtesy IMDB

سب سے پہلے میں ذاتی طور پر ذکر کرنا چاہوں گا ہرش چھایا صاحب کا ، ہمیشہ سے اسکرین پر مہذب انداز میں نظر آنے والے ہرش چھایا صاحب نے اپنی شخصیت اور اپنے اوپر لگی ہوئی چھاپ کو ہٹا کر ایک ایسا کردار بخوبی نبھایا ہے کہ میرے الفاظ شاید اس کردار کو انصاف کے ساتھ لکھ نہ سکیں ۔ ہرش چھایا نے واقعی کمال کردیا ہے ۔

Achal Singh Indian Actress OTT Undekhi Seasons Sony Liv web series
Anchal Singh

آنچل سنگھ کی اداکاری بھی بہت عمدہ رہی ہے ۔ آنچل سنگھ اپنے بولڈ سین اور فگر کی وجہ سے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا پر سرخیوں میں رہتی ہیں لیکن اس بار کیریکٹر ایکٹنگ میں انہوں نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ وہ ایک بہترین اداکارہ ہیں ۔ سوریا شرما نے منفی کردار میں گویا کہ اپنے نام کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں ۔ سوریا شرما بھارتی  انڈسٹری میں آنے والے نوجوان اداکار ہیں جنہوں نے ان دیکھی سیزن میں رنگ جما دیا ہے ۔

Harsh Chhaya Surya Sharma UnDekhi Season Web Series Sony Liv Originals
ہرش چھایا اور سوریا شرما ت، ان دیکھی ویب سیریز میں ۔ 
Courtesy www.deccanherald.com

اس کے علاوہ ایک اور بڑا باکمال اداکار جس نے اس سیزن میں ایک توازن پیدا کیا ہے ، وہ ہے ،دبیندو بتھر چاریہ  ۔ دبیندو صاحب بنگالی پولیس مین میں نظر آئیں گے اور انہوں نے ہرش چھایا کے مقابل کی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں ۔ سیریز میں کہیں کہیں بولڈ مناظر ہیں جو اس سیزن کی ضرورت کے مطابق ہیں ۔ اپیکشا پوروال پہلے سیزن میں خاموش ہیں لیکن جیسے ہی کہانی آگے کی جانب کروٹ لیتی ہے ، اپیکشا جی نے جنگل میں منگل کردیا ۔ جنگل کوئین جیسی یہ لڑکی نے کہیں یہ تاثر آنے ہی نہیں دیا کہ یہ جنگل اُس کا نہیں ہے ۔ ورون بھگت ، ابھی شیک چوہان ، عین زویا ، انکور رتھی  آپ کو ان دیکھی سیزن میں نظر آئیں گے ۔ ہدایت کار اشیش آر شکلا نے ایک اور منفرد کرائم تھرلر بنا کر او ٹی ٹی دنیا میں خوب داد وصول کی ہے ۔ 

Anchal Singh Dibyendu Bhattacharya Undekhi Web Series Sony Liv originals
آنچل سنگھ اور دیب یندو بتھر چاریہ ، ان دیکھی ویب سیریز میں ۔ 
courtesy scroll.in 

ان دیکھی کی ہر قسط میں سسپنس  اور ایسی سنسنی شامل ہے کہ آپ اس سیزن کو ادھورا تو چھوڑ ہی نہیں سکتے ہیں ۔ یہی اس سیزن کی خوبی ہے ۔

رائیٹرز کو کریڈٹ جانا چاہیئے کہ اتنی خوبصورتی سے کہانی کو آگے لے کر چلے اور مکالمے خوب لکھے ۔

 

Series Writing Credits
Varun Badola...(10 episodes, 2020)
Umesh Padalkar...(10 episodes, 2020)
Siddharth Sengupta...(creator) (10 episodes, 2020)
Mohinder Pratap Singh...(based on a short story by) (10 episodes, 2020)
Sumeet Bishnoi...(dialogue) (10 episodes, 2022)
Sumit Bishnoi...(dialogue) (9 episodes, 2022)

Courtesy IMDB 

 

Undekhi Season 2 Sony Liv Originals Web Series Crime Drama Thriller Indian OTT





ایدھی بن جائیں یا پھر ایدھی کے بچے تحریر بلال حسین

ایدھی بن جائیں یا پھر ایدھی کے بچے

بلال حسین 

بچوں کو محبت سے صبح اسکول کے لئے جگائیں

بچوں کو اس بات پر قائل کریں کہ آج وہ زندگی کا بہترین دن گزارنے جا رہے ہیں ۔ 

Courtesy NO GUILT MOM

صبح کا الارم بجا ہی تھا کہ بیوی کی جھنجلاہٹ زدہ اور نیم گھٹی ہوئی آواز نے مجھے چونکا دیا ۔ کہتے ہیں کہ بچوں کو جب صبح بیدار کیا جائے تو مسکرا کر کیا جائے تاکہ اُن میں ایک مثبت اور اچھی توانائی آ جائے ۔ وہ اپنا پورا دن اچھا گزار سکیں اور اسکول میں سیکھنے کی طلب کو مثبت انداز میں اپنا سکیں لیکن یہاں تو مائیں جب رات گئے تک سوشل میڈیا پر انتہائی جھوٹی خبریں اور وڈیوز نہ دیکھ لیں ، پاکستانی گھٹیا ڈراموں کے بے وزن مکالمے نہ سن لیں اور اُردو زبان کو خواتین رائٹرز کے بموں سے نہ اڑا دیں تو اُن کی آنکھوں سے نیند اتنی ہی دُور رہتی ہے جتنی آج پاکستان سے جمہوریت ہے ۔

بچوں کو دھمکی دیتے ہوئے اٹھاتے ہوئے بیگم صاحبہ نے گرج دار جملہ ادا کیا " تم اٹھ رہے ہو یا میں اٹھاؤں؟" 


غصہ کرنے سے آپ کے اندر مثبت توانائی ضائع ہوتی ہے

اگر اس کی جگہ وہ یہ کہہ دیا کریں کہ دیکھو آج موسم کتنا اچھا لگ رہا ہے باہر پرندے اور پودے کتنے خوش ہیں ، چلو اسکول کا ٹائم ہو رہا ہے ۔۔ آپ کو آج ناشتے میں آپ کی پسندیدہ چیز بنا کر دیتی ہوں اور لنچ بھی ۔۔۔ لیکن ذہنی دباؤ کے پیش نظر ایسا ممکن نہ ہو سکا ۔ بچے منہ بسورتے ہوئے بیدار ہوتے ہیں ، آپس میں لڑتے ہیں ، ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظروں سے  نا چاہتے ہوئے ناشتہ کرنے کے بعد کسی عادی مجرم یا ملزم کی طرح پولیس وین یعنی اسکول کی وین کا انتظار کرتے ہیں ۔ اور پھر قیدیوں کی مانند یعنی بچوں کو اسکول کی وین لے جاتی ہے اور وہاں بھی اسکول میں ججز یعنی میڈم اور پولیس اہلکار یعنی اساتذہ موجود رہتے ہیں ۔ 

  غصے چھوڑدیں ورنہ ۔ ۔ ۔ آپ کی صحت کو خطرہ ہے ، کلک کریں مزید پڑھیں

Courtesy www.betterhealth.vic.gov.au

 

ہم کہ ٹھہرے اجنبی ، یعنی ہمیں سمجھنے والا کوئی نہیں ہے 

اس کے بعد نمبر آتا ہے جناب کا ، فکر و تصور سے لبریز دماغ کی باقیات ابھی ختم نہیں ہوتیں کہ بیگم صاحبہ واش روم جانے تک مجھے گزشتہ شب میں سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر کی جانے والی برائیاں اور لگائی بجھائی کی روداد سیکنڈوں میں سنا دیتی ہیں ۔ اپنی ماں اور بہن کے ساتھ ہونے والی عالمی زیادتی اور اُس رشتے دار کا نام ایسے پکارتی ہیں جیسے وہ رشتے دار اسرائیلی ہو اور ان کی ماں بہن فلسطینی ۔ ہم سوچنے سمجھنے والوں کا جسم ویسے ہی پانی کی کمی اور غور و فکر کی ذہنی مشقتوں اور ورزشوں سے کھل کر اجابت سے محروم رہتا ہے اور بیت الخلاء میں دیر ہو جاتی ہے اور پھر صبح اٹھتے ہی خاندان نامہ سنا کر لا شعور میں بھی انہیں خیالات کو ٹھونس دیا جاتا ہے جس طرح اسٹیبلشمنٹ عوام کی رائے بناتی ہے ۔ 


اردو بلاگز ذہنی صحت دماغی امراض پاکستان نفسیاتی مسائل

نئی نسل تیزی سے ڈپریشن کا شکار کیوں ہورہی ہے؟

Courtesy DAWN NEWS

ناشتے کے وقت ہمیشہ یہی دھڑکا رہتا ہے کہ آفس کے لئے دیر ہو رہی ہے لیکن حرام ہے کہ بغض کی روانی میں کسی طور کوئی کمی واقع ہو اگر میں مضمون بدل بھی دوں تو سبزی والے کی مہنگی اور گلی سڑھی سبزیوں سے بات وزیر اعظم تک پہنچ جاتی ہے اور ایسی تیسی پر ختم ہوتی ہے ۔ جاتے ہوئے بیوی سے کون مسکرا کے ملنا نہیں چاہتا ہے ؟ لیکن مسکراہٹ تو کجا آواز میں بھی ایک رعب سنائی دیتا ہے کہ واپسی پر فلاں چیز لیتے ہوئے آنا  اور اس کے بعد بندہ سر تسلیم خم کرتے ہوئے کراچی کی سڑکوں پر جہاد کرنے نکل پڑتا ہے ۔

ڈپریشن ، پریشانی ذہنی دباؤ ، دماغی صحت ، معاشرہ اردو بلاگز

Depression, stress, anxiety rampant in Pakistan, specialists say

Courtesy TRIBUNE.PK News

کراچی والوں پر روز صبح کیا گزرتی ہے 

موٹر سائیکل سوار حضرات کی چالاکیوں سے اور گاڑی والوں کی رعونتوں سے بچتا بچاتا کراچی کا شہری ، چنگ چی رکشے کی لہراتی سواری سے ضرور پیچ و خم کرتے ہوئے بچتا ہے اور خدا کا شکر ادا کرتا ہے ۔ سڑک پر ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ آپ سڑک پر کسی صاحب کے منہ سے کسی اور صاحب کے گھر کی خواتین کے بارے میں نہ سنیں ۔ آفس پہنچنے کے بعد سب سے بڑا مرحلہ ہوتا ہے پارکنگ کا اور پارکنگ تو قسمت والوں کو ملتی ہے جو صبح ہی آکر بڑے ٹھاٹ سے گاڑیوں کو اس طرح لگاتے ہیں کہ ہمیشہ دوسری گاڑی پارک ہی نہیں ہو سکتی ۔ صبح آنے والے لوگ آپ کو آفس میں داخل ہوتے ہی ایسے گھورتے ہیں جیسے آپ ان کے گھر سے آ رہے ہوں ۔

اوپر باندھی گئی مختصر تمہید سے میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ گھر سے لے کر سڑک اور پھر دفاتر ، شاپنگ سینٹرز ، تفریحی مقامات ، شادی ہالز ، سنیما گھروں ، یا کہیں بھی ، ہم ذہنی دباؤ کا شکار ہیں ۔ ہم اگر پچیس کروڑ کی آبادی والے پاکستان میں رہتے ہیں تو حالیہ مستند تحقیق کی رُو سے ہم میں پانچ کروڑ افراد مختلف ذہنی امراض کا شکار ہیں جن میں چھوٹی بڑی نوعیتیں شامل ہیں ۔ لہذا خوش رہنے کی سوچ مقدم بنا لیجئے ۔ جہاں رہیں ، جس حال میں رہیں خوش رہنے کی اور رکھنے کی کوشش کریں ۔ سنجیدگی اختیار کریں جتنی ضرورت ہو ، بچوں کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے اُن کو ہمدردی کے ساتھ سکھانے کی کوشش کریں ، آپ میں ایک انجانی اُداسی اور مایوسی کا خود ہی خاتمہ ہونے لگے گا ۔ بچے اُس طرح نہیں سوچتے ہیں جس انداز میں ہم سوچتے ہیں کیونکہ ہمارے دماغ میں زیادہ سوفٹ وئیر انسٹال ہوتے ہیں اسی لیے ہم سب کو دیکھ رہے ہوتے ہیں جبکہ بچے صرف اپنے سوفٹ وئیر کی حد تک سوچتے ہیں اور اُسے وائرس سے بچانے کی تگ و دو بھی حقیقی معنی میں کرتے ہیں ۔

میرے دو مشورے ہیں ، ایدھی بن جائیں یا پھر ایدھی کے بچے کیونکہ اس کے علاوہ تو پاکستان اور خاص طور پر کراچی میں کوئی خوش رہنے نہیں دے گا ۔


منگل، 5 اپریل، 2022

اچانک بارش ہوگئی

 کھیل ابھی چل رہا تھا ۔ اوورز باقی تھے لیکن وکٹیں گر رہی تھیں اور رنز بھی بن رہے تھے ۔ تماشائیوں کا جوش بڑھتا جا رہا تھا ۔ آسمان بھی دو حریفوں کے درمیان خوب جوش میں تھا لیکن آسمان سے کوئی اترنے والا تھا نہ ہی کوئی دکھائی دینے والا تھا ۔ لیکن مسلسل بادلوں کی گھن گرج سنائی دیتی تھی ۔ ایک حریف کہتا تھا کہ یہ کسی کا اشارہ ہے کہ اوپر والا ہمارے ساتھ ہے جبکہ دوسرے حریف کا ماننا تھا کہ اوپر والا تو نیک لوگوں کے ہمیشہ ساتھ ہی ہوتا ہے اس میں اتنی حیرت کیوں ہے ۔ کھیل آگے بڑھ رہا تھا ۔ فیلڈنگ سائیڈ پر بہترین باؤلنگ کی تیاری تھی کیونکہ بال اب نئی نہیں رہی تھی ۔ بیٹسمین دباؤ کا شکار ضرور تھے لیکن بے حد پر امید اور پورے جذبات کے ساتھ کریس پر کھڑے تھے ۔ ابھی آخری اسپیل شروع ہوا چاہتا تھا کہ اچانک پھر سے بادلوں نے خورشید کی کرنوں کو زمین پر بکھرنے سے روک دیا ، ہر طرف آہستہ آہستہ سرمئی بادلوں کا اندھیرا چھا گیا ، ہوا بند ہونے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے سرمئی بادلوں نے سیاہ بادلوں کو مناسب جگہ دے دی اور یوں ایک دم سے دھوپ سے اٹا دن ، رات کے اندھیرے میں بدل گیا ۔ تماشائیوں سمیت دونوں ٹیموں کے لوگ حیرت انگیز نظروں سے اس اندھیرے کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک ہوا بالکل بند ہوگئی ۔ گھٹن زدہ ماحول میں ٹیل اینڈرز نے اپنے کپتان کے ساتھ اظہار یک جہتی دکھائی اور نعرہ لگایا ۔ تماشائیوں میں بھی جوش کی لہر دوڑ پڑی ۔ حریف ٹیم نے بھی اپنی کمر کس لی ۔ ابھی میچ آخری مراحل میں داخل ہوا ہی تھا کہ انتہائی ٹھنڈی ہوا نے سب کو چونکا دیا ۔ باؤلر نے عجلت میں گیند پھینکنے کا فیصلہ کرلیا لیکن بیٹسمین نے وکٹ چھوڑ دی کہ وہ ابھی تیار نہیں ہے ۔ اسی بات پر دونوں ٹیم کے ممبران ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے لگے تھے کہ بادل گرجے اور طوفانی ہوائیں چلنے لگیں ۔ تماشائی کو بے یارو مددگار بیٹھے پر امید نظروں سے اپنی ٹیموں کو سپورٹ کر رہے تھے ، مایوس ہوگئے ۔ پیچ گیلی ہوگئی ، کھیلنے کے قابل نہ رہی اور اسی دوران بیٹنگ ٹیم کے منیجر نے اپنے دونوں بلے بازوں کو واپس پویلین بلا لیا ۔ جس پر باؤلنگ ٹیم سیخ پا ہوگئی لیکن  بارش تو طوفانی تھی ، اس موسم میں میچ تو دور کی بات ، بندہ کھڑا نہیں رہ سکتا تھا ۔ لہذا امپائروں نے تیسرے ایمپائر سے صلح مانگی تو وہاں صرف ایمپائر کا رقہ ہاتھ لگا جس پر بارش کی وجہ سے میچ روکنے کا کہا گیا تھا ۔ اس خط کی کتنی اہمیت ہے یہ تو تھرڈ امپائر خود بتائے گا لیکن ایسا کیوں کیا گیا ؟ اگر دونوں ٹیموں کو برابری کے نمبر دے دیا جاتے تو حالات اتنے نہ بگڑتے ۔ 

اتوار، 6 مارچ، 2022

کراچی میں گوریلا جنگ

 

کراچی میں جاری نامعلوم افراد کی گوریلا جنگ 

کراچی سے ایک  ٹریلین ٹیکس جمع کیا گیا 

زندگی ایسی بدل جائے گی ہمیں معلوم ہی نہیں تھا ۔ ہم چند دنوں کے لئے ایسی دنیا میں قیام پذیر ہونگے جہاں سڑکوں کی چمک سے کھانا کھانے والی پلیٹوں تک میں نفاست پائی جاتی ہو ۔ جہاں انسانوں کو انسانوں سے بظاہر کوئی خطرہ نہ ہو ۔ جہاں ریاست کی رٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہو ۔ بڑے سے بڑی گاڑی کے لئے اس کی خاص جگہ متعین ہو ۔ صفائی نصف ایمان جن کی گلیوں کا خاصہ ہو اور ہمیشہ جس پر توجہ ہو ۔ جی ہاں میں یقیناً پاکستان کے دارلخلافہ اسلام آباد کا ذکر کر رہا ہوں اور کیوں نہ کروں ؟گزشتہ ڈیڑھ دہائی گزر چکی ہے میرے شہر میں یوں تو افراد پر مبنی ایک معاشرہ ہے لیکن قانون جنگل کا بھی نہیں ہے ۔ جی ہاں میں کراچی کا شہری ہوں ۔ اگر مجھے اسلام آباد اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود اس قدر فریفتہ کر رہا ہے تو آپ کو اندازہ ہوجانا چاہیئے کہ کراچی والوں کے اوپر کیا گزرتی ہوگی ؟

Karachi city worst condition street crime gutter sewerage

کیونکہ میں کراچی کا رہنے والا ہوں ۔ میں اسی کراچی شہر میں پیدا ہوا ہوں ۔ جب گٹر اپنی اوقات میں تھے لیکن اب یہی اندرون زمین بہنے والا کالا پانی ہم کراچی والوں کے لئے سزا ئے کالا پانی بن چکا ہے ۔ سڑکوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے افغانستان میں نہیں بلکہ کراچی میں بمباری کرکے یہاں کی سڑکیں تباہ کردی ہیں۔  کراچی شہر سے ایف بی آر نے تاریخی ٹیکس جمع کرکے تاریخ تو رقم کردی ہے لیکن بچارا کراچی اور کراچی والے یونہی سوتیلے پن کا شکار رہے ۔ اس شہر کا کوئی ولی وارث نہیں ہے ۔ کراچی کی سڑکوں پر ہر شخص حالت جنگ میں ہے ۔ ایک گوریلا جنگ لڑی جا رہی ہے ۔ ڈکیت ہر روز شہریوں کی جان و مال کے درپے ہیں ۔ یہ گوریلا جنگ کراچی پولیس اور ڈکیتوں کے درمیان ہے لیکن اس میں جانی و مالی نقصان شہریوں کا ہورہا ہے ۔ پولیس کے اعلیٰ افسر اپنی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کرتے ہیں کہ سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران اور سندھ حکومت کے وزیر و مشیر جرائم پیشہ افراد کی مکمل پشت پناہی کر رہے ہیں لیکن اس بڑی خبر پر اعلیٰ جج صاحبان بھی کان نہیں دھرتے کیونکہ یہ عوام کی فلاح وبہبود اور انہیں ریلیف دینے کا معاملہ ہے ۔ عوام کو ڈکیتوں ، واٹر ٹینکر مافیا ، ٹرانسپورٹ مافیا ، پولیس گردی ، وڈیرہ مافیا ، پارکنگ مافیا ، دودھ مافیا ، فلٹر پلانٹ مافیا  کے رحم کرم پر چھوڑ کر سیاستدانوں کو صرف آئین سے پیار ہے لیکن اس وقت تک جب تک ان کے لیڈر کی سیاسی میراث خیریت سے ہے ۔

Karachi street crime rate mobile snatching robbery dacoits

سوال یہ ہے کہ سیاستدانوں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے ، عوام سے ووٹ لے کر یہ ایوانوں میں جاتے ہیں ، آئین بناتے ہیں قانون سازی کرتے ہیں ۔ کیا یہ سب وہ کسی اور مخلوق کے لئے کرتے ہیں ؟ کیا ایوانوں میں جانے کا مقصد امریکی عوام کو ریلیف اور سہولیات دینا ہے یا پاکستانی عوام کو ؟ جب یہ سارا ریاستی اور سیاسی ڈھانچہ عوام کے لئے ہے ، ملک کے لئے ہے تو پھر تئیس کروڑ عوام کو اور خصوصاً کراچی کی تین کروڑ سے زیادہ عوام کو کیوں بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے ؟ پنجاب  دیکھا ، لاہور دیکھا ، اسلام آباد گھومے ، ملتان کی سیر کی ، میاں چنوں گئے ، لطف اندوز ہوئے ۔ اور جب اپنے وطن کراچی لوٹے ، سندھ کی سرزمین پر واپس آئے تو ایک الگ ملک کا احساس ہوا ۔ ایسا ملک ، ایسا وطن جس کے لئے ہم سب قربان کرسکتے ہیں لیکن کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ کیونکہ اس راہ جو بھی قربانیاں دی گئیں وہ رائیگاں گئیں ۔ اب کوئی مریخ سے ہی آئے گا جو کراچی کو انسانوں کی آبادی کا شہر سمجھے گا ۔

Political parties pakistan MQM Pakistan Peoples Party Tehreek e Insaf PML N PML Q ANP JUI JI

کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

کیا جمہوریت اتنا بھیانک انتقام ہے ؟

ہم جمہوریت سے بدظن ہوئے جو کسی نے کہا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے ۔ اگر یہی انتقام ہے تو ہمیں جمہوریت نہیں چاہیے ۔ کراچی کی حلقہ بندیوں سے گھبرانے والے اسلام آباد کی طرف اپنا ساز و سامان لیے کوچ کرنے والے ہیں ۔ کاش اسلام آباد پہنچ کر انہیں کچھ فکر یا احساس لاحق ہوجائے کہ جس شہر کو ہم لاوارث اور سوتیلا بنا بیٹھے ہیں وہ ہمارے نسلوں کو پالنے کا ضامن ہے ۔ کراچی والوں نے فوڈ پانڈا میں نوکریاں کرلی ہیں ، سرکاری ملازمتوں کے خواب دیکھنے بھی چھوڑ دئیے ہیں بس اب فقط اتنی گزارش ہے کہ ہمیں ڈکیتوں کی گوریلا جنگ سے نجات دی جائے ۔ مقامی لوگوں کو ہماری حفاظت پر مامور کیا جائے ۔ سڑکوں ، گٹر اور پانی کے نظام کو بنیادی حق سمجھ کر دیا جائے ۔ کے الیکٹرک کی اجارہ داری کو اب کے لگام دی جائے ۔ ہمیں سرے محلات نہیں اپنا ہی چھوٹا سا آنگن چاہیے لیکن جہاں سکون ہو ، انسانیت ہو ۔

Bilawal Bhutto Zardari Long March

پنجاب اور سندھ کا موازنہ اگر میں غیر سیاسی ہوکر بھی کروں تو یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ دونوں صوبوں نے اسے سیاسی بنا رکھا ہے ۔ پنجاب گئے تو میاں صاحب ہر دل میں ہیں اور سندھ میں بھٹو زندہ ہے ۔ مجھے تو یہی فرق نظر آیا ورنہ پنجاب بھی میرا اور سندھ بھی میرا ہے ، میں پاکستانی ہوں ۔ اب اگر کوئی اسے سیاسی کہے تو کہے ہمیں تو یہی سکھایا گیا ہے اور یہی کہا جاتا رہا ہے ۔ فضل الرحمان صاحب تین برس کا حساب مانگ رہے ہیں خان صاحب سے لیکن چودہ برسوں کا ذکر تک نہیں کر رہے ہیں او انہوں نے فرما بھی دیا ہے کہ سندھ حکومت کے خلاف کوئی عدم اعتماد کی تحریک نہیں لائی جائے گی ۔ اگر اصولی سیاست پر یقین رکھتے تو آپ ایسا بیان نہ دیتے ۔ بہرحال مولانا کی اپنی جماعت کے لوگ گواہ ہیں کہ کراچی والوں اور سندھ کا کیا حال ہے ۔

Nawaz Sharif
Zulfiqar Ali Bhutto

بلال حسین