جمعرات، 20 جنوری، 2022

صدارتی نظام سے کرپٹ سیاست کا خاتمہ

 صدارتی نظام کی مہر سے کرپشن کو سیل کردیا جائے گا ؟

بلاگر : بلال حسین

نوٹ ؛ آپ میری رائے سے اختلاف کرسکتے ہیں ۔ 

کیا قوی سلامتی کا مسودہ وزیراعظم کی قوم سے مخلصی کا ثبوت ہے ؟

Prime Minister Imran Khan
Courtesy Dawn News

22nd Prime Minister of Pakistan Imran Khan


سوالات بہت ہیں لیکن مہنگائی کا جن تو بوتل سے باہر پاکستان بنتے ہی آگیا تھا ۔ لہذا اس موضوع پر بحث کرنا فی الحال مناسب نہیں ہے۔  ہم جمہوریت کے خطرات سے بات شروع کرتے ہیں جو ازل سے سیاسی خاندانوں کی سیاسی شخصیات سے مشروط رہے ہیں ۔ 

پاکستان میں جمہوریت کی بساط کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔ پارلیمانی نظام کو اگر ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک کی سالمیت کو شدید دھچکا پہنچے گا ۔ 1971 سقوطِ ڈھاکہ کی تمثیلات ایسے دی جا رہی ہیں جیسے ہمارے ٹیلی ویژن پر کمیونیکیشن کمپنیاں فری منٹس کی تشہیر کرتے ہیں ۔ جنرل یحیٰی خان کے دور میں بنگلہ دیش معرض وجود میں آیا لیکن کیا آج کےچورن بیچنے والے سیاستدان اور اپنے آقاؤں کی کرپشن اور لوٹ مار کو اپنی جانوں پر کھیل کر تحفظ دینے والے سیاسی کارکنان کتنا کچھ جانتے ہیں سانحہ بنگلہ دیش کے بارت میں ؟ جاوید لطیف ن لیگ کے لیڈر سے سوال ہوتا ہے کہ شہباز شریف وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہیں تو وہ دیگر ساتھیوں پر الزامات لگا دیتے ہیں ۔ جس کی وعید سنائی جا رہی ہے ،مریم صفدر سے لے کر مریم اورنگزیب جس لیڈر کے خواب دکھا رہے ہیں وہ لندن میں اپنے خاندان کی دھن کی حفاظت پر مامور ہے ۔ جس کی واپسی کی کوئی امید نظر آرہی ہے اور نہ ہی اسے پاکستان کی عوام کی کوئی فکر ۔ یحیٰی خان سے لے کر جنرل مشرف کے صدارتی ادوار کے تجربے ہم کرچکے ہیں ۔ 

Chief of Pakistani Army General Qamar Bajwa
Courtesy Dawn News COAS Gen. Qamar Bajwa

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اگر جمہوریت نے ڈیلیور نہیں کیا تو صدارتی نظام نے پاکستان کو کیا ترقی یافتہ ملک بنا دیا ؟ کیا انصاف سے لے کر صحت اور تعلیم کا معیار بڑھ گیا ؟ جواب نفی میں ہی آنے کی توقع ہے ۔ صدارتی نظام ہو یا پھر پارلیمانی نظام ، اگر انسان یا لیڈر کی نیت صاف نہیں ہوگی تو آپ چاہے خلد سے فرشتے لے آئیں کچھ تبدیل نہیں ہونے کا ۔ آج کے صدارتی نظام کی اہمیت اس لئے بہت زیادہ اور شفاف ہے کیونکہ افواج پاکستان عوام کی شدید خواہش کے باوجود سیاست میں دخل دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے اور مارشل لاء کا تو بالکل سوچ بھی نہیں رہی ہے ۔ جنرل راحیل شریف سے پہلے بھی جنرل کیانی کو کراچی کے بگڑتے ہوئے حالات کے پیش نظر کئی مواقع میسر آئے جب پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا لیکن پاک فوج نے یہ ممکن بنایا کہ اب وہ سیاست میں اس طرح سے شامل حال اور شاملِ اقتدار نہیں رہے گی ۔ 

 Bilawal Bhutto Maryam Nawaz Courtesy Dawn News

میاں صاحب جیتے تو فوج نے ہرگز نہیں جتایا اس کے بعد عمران خان صاحب وزیر اعظم بنے تو فوج پر انگلیاں اٹھیں کیونکہ پاکستان کا حکمران طبقہ دو جماعتی سسٹم کا مرہون منت رہا ہے اور ریاست میں بھی ان کی پرچھائیاں بہت گہری ہیں جن کی مثال سندھ کا نیب اور سندھ کے دیگر ادارے ہیں جو سیاسی اثر و رسوخ کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ صدارتی نظام کی اہمیت اس لئے اور بھی بڑھ گئی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں 73 کے آئین کے بعد ، 74 برس بعد ، وزیر اعظم اور ان کی ٹیم نے افواج پاکستان کے ساتھ مل کر قومی سلامتی پالیسی پر دستخط کرکے اپنی دیانت اور اس ملک کی عوام سے گہری سنجیدگی کا اظہار کردیا ہے ۔ وزیر اعظم نے قومی سلامتی کے مسودے کا ایک حصہ عوام کے لئے شائع بھی کردیا ہے ۔ جس طرح جنرل مشرف نے اپنے دور حکومت میں حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ شایع کرنے کا جرأت مندانہ فیصلہ کیا تھا اور اس فیصلے میں جنرل معین الدین حیدر صاحب بھی پیش پیش تھے ۔قومی سلامتی پالیسی کا مطلب اور مقصد پاکستان کو سینکڑوں پیچیدہ اور بوسیدہ نظام سے چھٹکارا دلا کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے ۔ انتہا پسندی کے معاملات ہوں یا خارجہ پالیسی، سبھی معاملات میں واضح روڈ میپ موجود ہے ۔یہ بھی کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ ایک بہترین دستاویز ہے جسے پڑھ کر محسوس ہونے لگتا ہے کہ پاکستان کو ہم ایک اچھی جگہ لے جاسکتے ہیں اور ملک کی عوام کی زندگیاں بدل سکتے ہیں ۔  


Prime Minister Imran Khan sign National Security Plan of Pakistan 2022 - 2026
Courtesy Dawn News

Prime Minister Imran Khan Signing National Security Policy of Pakistan 2022 - 2026

آئین پاکستان کے بعد ملک کا یہ قیمتی ترین دستاویز ہے اور یہ آئین پاکستان کے عین مطابق بھی ہے ۔ اسی لئے وزیر اعظم عمران خان نے کسی بھی سیاسی جماعت جیسے ن لیگ اور پی پی پی سے مشاورت کرنے میں وقت ضائع نہیں کیا کیونکہ یہ اپنی کرپشن اور ڈیل کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں ۔ پاکستان کو در حقیقت ایک صدارتی نظام کی ضرورت اشد ہے لیکن اس کے ساتھ ایک ایسے انسان کی نیت اور ارادے کی ضرورت بھی ہے جو عوام کی خاطر سیاست اور ریاست کے مافیاز سے ڈٹ کر مقابلہ کرے اور انہیں شکست دینے کی طاقت رکھتا ہو ۔

Pakistan people happy 2022 Common Man
Courtesy The News

برسوں بعد ایک آدمی مسلسل تئیس سال کی جدو جہد کے بعد ایوان بالا میں وزارتِ عظمیٰ پر پہنچتا ہے ، یاد رہے یہ وہ شخص ہے جس نے دنیا بھر میں عزت اور دولت کمائی اور ساری دولت پاکستان لے کر وطن واپس آگیا ۔ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک کی نیشنلٹی کو چھوڑ کر پاکستان واپس آیا کیونکہ اسے سیاست نہیں بلکہ خدمت کرنی تھی ۔ یہ شخص جنرل جیلانی کی گود میں بیٹھ کر نہیں آیا ، کسی تھرڈ ایمپائر کو کبھی ساتھ ملا کر گراؤنڈ میں نہیں اترا  اور نہ ہی "پاکستان کھپے "کا نعرہ لگا کر سیاسی کارکنان کااستحصال نہیں کیا  ۔

Sindh Government Corruption Pakistan People's Party
Courtesy The Nation

یہ بلاگ آپ کو بظاہر جانبدار لگے گی لیکن یقین جانئیے کہ زمینی حقائق مجھ سے یہی کچھ لکھوانے پر مجھے مصر ہیں تو میں کیوں نہ لکھوں ؟ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے لیڈران کے گھریلو اور ذاتی ملازمین کے اکاؤنٹس سے اربوں روپے نکل رہے ہیں ، شہباز شریف صاحب نے نیب کو کوئی معقول جواب دیا نہ ہی زرداری لیگ اس میں آج تک کامیابی حاصل کرسکی لیکن یاد رہے کہ اب پراسیکیوشن میں موجود قوانین کی ترمیم کی جارہی ہے جس کے خلاف یہ بظاہر متحدہ اپوزیشن بشمول فضل الرحمان ایک ہوجائے گی کیونکہ ان کی کرپشن اور نااہلی پر جب بھی بات آئی یا کیس فائل ہوا تو جمہوریت کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں اس لئے صدارتی نظام کے بارے میں غور و خوض کیا جا رہا ہے اور جبھی سیاسی کرپٹ پنڈتوں کے سیر شدہ شکم میں مروڑیں اٹھ رہی ہیں ۔ اب ڈیل کی پھکی ملے گی اور نہ ہی دردِشکم کا کوئی سیرپ ۔ 


Shahbaz Sharif Salman Shahbaz Hamza Sharif Corruption Charges
Courtesy Siasat Pk

ڈیل اور ڈھیل بہت دی گئیں اب ان سب کو سیل دی جائے وہ بھی صدارتی مہر کے ساتھ ۔ 

National Security Policy of Pakistan 2022 - 2026
Courtesy The Nation 


جمعہ، 14 جنوری، 2022

ایک بہترین اداکار Ayushmann Khurrana ایوشمان کھرانا

ایوشمان کھرانا

بریلی کی برفی سے چندی گڑھ کی عاشقی تک 



Chandigarh Kare Aashiqui Offical Trailer

ایوشمان کھراناکی وکی ڈونر کی کامیابی میں بلاشبہ ایوش  کی پرفارمنس کا بہت بڑا حصہ تھا ۔ اس کے بعد  کامیابیوں کا سلسلہ جو شروع ہوا وہ ابھی تک کی "چندی گڑھ کرے عاشقی" تک جاری و ساری ہے ۔ ایوشمان کی کسی بھی فلم کو دیکھیں تو بغیر کسی شک و شبہ کے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ فلم نہ صرف اینٹر ٹینمنٹ ہوگی بلکہ اچھوتے موضوع کے ساتھ ہوگی ۔ بڑے پردے کے اس بڑے نوجوان نے بڑی محنت سے اور مسلسل اپنی لگن کے ساتھ یہ مقام حاصل کیا ہے ۔ 

bareilly ki barfi Ayushmann Khurrana Rajkumar Rao Bollywood Movies Comedy Romance


ایوشمان اپنی کسی بھی فلم کے کسی بھی کردار میں بوجھل یا غیر سنجیدہ نظر نہیں آئے ۔ کردار کی گہرائی میں غوطہ خوری ایوش کی اداکاری کا فطری جز بن چکا ہے ۔ اپنے کام سے محبت اور پوری ایمانداری برتنا کسی بھی بڑے اداکار کی پہلی نشانی ہے ۔ ایوشمان کھرانا جس طرح سے بالی وڈ انڈسٹری میں منفرد موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں اسی طرح وہ اپنی شخصیت سے ہٹ کر مشکل کرداروں کو نبھاتے ہوئے بھی بہت پر اعتماد دکھائی دیتے ہیں ۔ ایک ایسا ہی مشکل کردار ایوش نے چندی گڑھ میں نبھایا ہے ۔ جس پر ہریتھک روشن نےمسٹر کھرانا کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے اور ایوش کے کام کو سراہا ہے ۔ زور لگا کر ہیشا ہو یا بدھائی ہو ، وکی ڈونر ہو یا پھر بالا ایوشمان جب بھی جلوہ گر ہوئے تو ناظرین خوب محظوظ ہوئے ۔ اس کے علاؤہ ایوشمان نے سنجیدہ فلمیں بھی کی ہیں جس میں حال ہی میں ریلیز کی جانے والی فلم آرٹیکل 15 شامل ہے ۔ 

bareilly ki barfi Ayushmann Khurrana Kriti Sanon Comedy Romance Bollywood
Courtesy Imdb


شرارتی ایوش سے لے کر سنجیدہ ایوشمان ، مستقبل قریب کا ایک بڑا اداکار ہے ۔ اپنی خوبصورت آواز سے گلوکاری کا جادو جگانے والا ایوشمان کھرانا انڈسٹری کا رئیل ہیرو بننے جا رہا ہے ۔ یونہی اپنی اندھا دھند اداکاری سے سپر ہٹ فلمیں دیتے ہوئے اس بالو وڈ ڈونر ہیرو کو ہم سب پسند کرتے ہیں ۔ ہماری خواہش ہے کہ ایوش کا یہ سفر اب چندی گڑھ سے آگے جانا چاہیے کیونکہ مسٹر کھرانا تو چندی گڑھ کی ہی پیدائش ہیں ۔

Article 15 Movie Ayushmann Khurrana Bollywood Thriller

بدھ، 12 جنوری، 2022

دو بہترین ویب سیریز - خفیہ ایجنٹس کی تھرلر ایکشن

 دو بہترین ویب سیریز 

خفیہ ایجنٹس کی تھرلر اور ایکشن

 Two Best Spy Thriller Indian Web Series

Mission Impossible Series & James Bond Series
Tom Cruise - Daniel Craig




Courtesy Imdb

خفیہ ایجنٹس کی تھرلر کا اپنا ہی مزہ ہے ۔ جیسے دنیا کی بہترین مشن امپوسیبل Mission Impossible اور جیمز بانڈ James Bond کی فلموں کا آج بھی شدت سے انتظار رہتا ہے ۔ اسی طرح متعدد فلمیں اور ویب سیریز ہیں جو ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹس پر مبنی ہوتی ہیں ۔ اگر آپ انڈین ویب سیریز دیکھنے کے خواہشمند ہیں تو اس سلسلے میں تین ایسی بہترین سیریز ہیں جنہیں آپ ویک اینڈ پر پلان کرکے اچھا فیصلہ کریں گے ۔ 

The family man season 2 New Series Amazon Prime Bollywood Manoj Bajpayee
The Family Man Season 2

پہلی سیریز ہے دی فیملی مین سیزن ٹو The Family Man Season 2 ۔ اس سیریز کا پہلا سیزن نہایت کامیابی کے ساتھ ناظرین کا پسندیدہ بن گیا جس کے بعد ہی ایمی زون Amazon Prime پر اس سیریز کا دوسرا سیزن ریلیز کیا گیا ۔ منوج باجپائی اور شارب ہاشمی کی عمدہ اداکاری سے لبریز یہ ویب سیریز بہت ہی نیچرل ہے ۔ منوج باجپائی صاحب نے ایک بار پھر اپنی اداکاری کے سحر میں جکڑ لیا ہے ۔ منوج صاحب نے اپنے حصے کا کام نبھا کر اس سیریز کو ایک بڑی تاریخ میں بدل دیا ہے ۔ سیریز میں تامل ناڈو کی بغاوت موضوع ہے ۔ اگر آپ ایمی زون پرائم پر دیکھیں تو جہاں تامل ڈائیلاگز آئیں وہاں سب ٹائٹلز آپ کی مدد کریں گے ۔ 

Special Ops Kay Kay Menon Indian Web series thriller
Courtesy Koimoi

پاکستان انڈیا کی ٹینشن کے بارے میں کون نہیں جانتا ہے ۔ ہندوستان کی بالی وڈ دنیا کی ایک بڑی فلم انڈسٹری ہے اسی لئے بھارت اس موضوع کو بار بار اپنے فلموں اور ویب سیریز میں مدعا بنا لیتا ہے ۔ دیکھنے والے محظوظ ہوتے ہیں ، مزہ لیتے ہیں ۔ ان تمام ویب سیریز اور فلموں کو اگر تفریح کے طور پر دیکھا جائے تو مناسب ہوگا ورنہ یہ ساری کہانیاں حقیقیت سے کوسوں دور کی ہوتی ہیں ۔ انڈین خفیہ ایجنٹس کو اتنا قابل دکھایا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی جگہ کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ لیکن میں آپ کو یہاں مایوس نہیں کرنا چاہتا ہوں ۔ اسپیشل اوپس Special Ops انڈیا کی ایک صحت مند اینٹرٹینمنٹ ویب سیریز ہے ۔ کے کے مینن KK Menon کی دلفریب اور بھرپور تاثرات سے بھری اداکاری نے اس ویب سیریز کو ناظرین سے باندھے رکھا ہے ۔ اگر اس کردار کو کے کے مینن صاحب بخوبی نہ ادا کرتے اور اسکرپٹ کمزور ہوتا تو یہ ویب سیریز کبھی ناظرین کی قربت حاصل نہ کرپاتی ۔ تجسس اور تھرلر سے بھرپور اس ویب سیریز کو اگر آپ دیکھیں گے تو یقیناً آپ کا ویک اینڈ اچھا گزرے گا ۔ 



پیر، 10 جنوری، 2022

کرپشن نہیں سائیں کی اکثریت


اکثریت  یا جمہوریت 

کراچی کی مردم شماری ہوگی نہ ہی حلقہ بندیوں کی نوبت آئے گی 

تحریر :بلال حسین 

پاکستان کی جمہوریت کو جلا بخشنے والی پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان کو آئین سے نوازنے والی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی کویہ شرفِ حکمرانی حاصل ہے کہ یہ سن 2007 سے مسلسل صوبہ سندھ پر حکمران ہے ۔ اور حکومت میں اکثریت سےکیوں نہ ہو ۔ 2007 سے ہی پاکستان پیپلز پارٹی نے آصف علی زرداری کی قیادت میں جب پاکستان کی تقدیر بدلی تو ملک کے تین صوبوں نے غیر جمہوریت کو قبول کیا اور اگلا وزیر اعظم نواز شریف صاحب کو بنایا لیکن سندھ کی دیہی عوامنے جب جمہوریت کو پھلتا پھولتا دیکھا اور کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر انسانوں کو  جمہوریت نام پر  مرتا کٹتا دیکھا تو فیصلہ کرلیا کہ تاقیامت وہ بھٹو کے نام پر پھر سے ایک موہن جوداڑو قائم کریں گے جو واقعتاً ایک عظیم الشان تہذیب تھی ۔مدفون موہن جوداڑو کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی نے یہ قدم اٹھانے کا اپنا سیاسی اُصولی  فیصلہ کیا ۔یاسر حسین کا انسٹاگرام اسٹیٹس بھی تصویر کے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کر  کے پڑھ سکتےہیں  ۔ یاسر حسین کا اسٹیٹس سندھ کی گندگی کے بارے میں یہ ہے ۔ 

Yasir Hussain Tweet Mohen jo daro Twitter

Image Courtesy Dawn News



ہزاروں برس کی تہذیب پر نازاں و مطمئن لوگ ٹیکنالوجی ، اخلاقیات، ایمانداری، دیانت اور امانت کو اپنے لئے غیرآئینی اور غیر جمہوری سمجھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے بھر میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین کو اہمیت اس لئے نہیں دی جارہی ہے کہ کتے کی ذمےداری بھی حکومت پر ہے ۔ کتے کو کاٹنے دیا جائے ورنہ جمہوریت خطرے میں پڑ سکتی ہے ،آئین معطل ہوسکتا ہے ۔ جہاں انسانوں کے حقوق ہیں وہیں کتے کے بھی حقوق ہیں کہ اسے قدرت نے بھیڑیے جیسےدانت عطا کیے ہیں تو وہ کاٹے گا ۔ سندھ کا ہاری کسان ، مزدور بہت خوش ہے اور آنے والے چند سالوں میں اتنی ترقی کرجائے گا کہ کتے کے کاٹنے سے بھی اُسے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔

Boy dies of rabies in Larkana due to unavailability of vaccine Stray Dog The News International

Image Courtesy The News International

پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جسے جمہوریت کی مثال سمجھا جاتا ہے کبھی تیسری بار مسلسل اکثریت حاصل کرکے وہ اپنے دیہی سندھ میں عوام کی بے لوث خدمت میں دن رات مصروف ہے جو کی چند مثالیںKBCA کے بی سی اے سے  SBCA ایس بی سی اے کا سفر ، کراچی میں ٹرانسپورٹ کے لئے تمام منی بسوں کےباقاعدگی سے روٹ پرمٹس اور فٹنس سرٹیفکیٹ کا اجراء جیسی عظیم روایات اور خدمات شامل ہیں ۔

Karachi Transport Mafia Mazda bus

Image Courtesy Tribune PK

پاکستان پیپلز پارٹی نے ہی اٹھاون ٹو بی کا خاتمہ کیا اور اقتدار صدر سے چھین کر اسمبلی کو دے دیے لیکن یہ نہیں بتانا گوارا کیا کہ پارٹی کا سربراہ جب چاہے گا ، پارٹی کے منتخب شدہ وزیراعظم سے استعفیٰ طلب کرلے گا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے سب سے پہلے ایک ڈکٹیٹر کے بنائے ہوئے بلدیاتی نظام کو ختم کیا ، بالکل درست کیا کیونکہ ڈکٹیٹر کا بنایا ہوا گراس روٹ لیول کا نظام ملک میں معیاری سیاسی نرسیاں پیدا کر رہا تھا ، عوام کے پاس اقتدار آرہا تھا ، پولیس اور دیگر اداروں کی کارکردگی میں شب و روز نہ صرف اضافہ ہورہا تھا بلکہ ذرائع آمدن کے بھی راستے کھل رہے تھے ۔ اس ڈکٹیٹر کے بلدیاتی نظام سے عوام کو ستر سال میں پہلی بار فائدہ حاصل ہو رہا تھا ۔ عوام کو کسی ایم این اے یا ایم پی اے کے گھر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی بس وہ اپنے محلے کے یوسی ناظم کے دفتر میں جاتے اور اپنی شکایات درج کرتے اور گھنٹوں میں ہی عملدرآمد شروع ہوجاتا تھا ۔ 



لیکن ڈکٹیٹر شپ کا بلدیاتی نظام خواہ وہ جمہور کی دنیا کو جنت الفردوس بنانے لگے تب بھی ہمیں نامنظور ہوگا کیونکہ زرداروں اور سرداروں کی جمہوریت سب سے بڑا انتقام ہے ۔ یہ بات صحیح ثابت ہوگئی ۔ جنرل پرویز مشرف کا بنایا ہوا جمہوری بلدیاتی نظام جب رخصت ہوا تو جمہوریت کا واویلا کرنے والوں نے انتقام لیا ۔ آج کراچی جیسا میٹروپولیٹن شہر اور اس کے شہری اپنے گلی محلوں سے کچرا اٹھانے کے لئے آواز تک نہیں اٹھا پاتے ہیں ۔ گٹر بھر جائے تو اپنی جیبوں سے چندا جمع کرتے ہیں اور اس کی رسیدیں ایف بی آر یا کسی ٹیکس وصول نے والے ادارے کو بھی نہیں بھجواتے ہیں ۔ یہ شہر کراچی کبھی پاکستان پیپلز پارٹی جیسی عظیم شہنشاہی وڈیرہ جمہوریت کو ہضم ہی نہیں کرسکا اس لئے کراچی اور کراچی والوں کو بھی غیر جمہوری ہی سمجھا گیا ۔ کراچی شہر کے کاروبار کو تو دنیا میں پذیرائی مل رہی ہے ۔ 

Karachi Water Crises Tanker mafia Sindh government

Image Courtesy Daily Times

ٹینکر مافیا کے بارے میں کئی خبریں آئیں ، بین الاقوامی میڈیا نےبھی رپورٹ کیا لیکن کسی سندھ کے حکمران کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔ نیچے دیئے ہوئے لنک پر آپ مکمل رپورٹ دیکھ سکتے ہیں لیکن ہائے کہ ہماری عدلیہ اور حکومت اس سے نا واقف ہیں ۔

tanker mafia karachi geo tv report

Image Courtesy GEO TV

کراچی کے لوگ نہ نوکری مانگتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت میں کوئی حصہ ۔ ٹوٹی ہوئی صحیح سڑکیں تو ہیں راستہ بتانےکے لئے ، پانی تو جیسے تیسے ٹینکر مافیا کا پیٹ بھر کے مل ہی جاتا ہے ، بسوں کی چھتوں پر سفر کرنے سے ورزش بھی ہوجاتی ہے، سرکاری اسپتالوں میں دھکے کھانے کے بعد مٹھائی ادا کرکے جو شکر ادا ہوتا ہے اس جیسی خوشی تو کسی اجنبی کودوسرے ملک میں ہی ملتی ہے ۔ تعلیم کا نظام تو اہل سندھ کے والدین اور اساتذہ کو اس قدر مطمئن کر رہا ہے کہ کوئی بچہ اسکول کالج جائے نہ جائے ، پاس ضرور ہوگا ۔

Gutter in Karachi sewerage problems

Image Courtesy Tribune PK

یہیں  سے تو ہم ڈاکٹر عبدالسلام اور ڈاکٹر عبد القدیر نکالیں گے لیکن اب بھٹو کا اسلامی ایٹم بم تو بنا لیا ہے اب کونسا بم بناکر بھاری قیمت ادا کرنی ہے ۔ کراچی کے نوجوانوں کا مستقبل اس قدر شاندار اور تابناک ہے کیونکہ بین الاقوامی  فوڈپانڈا جیسے منفرد ادارے میں نوجوانانِ کراچی رائڈرز بھرتی ہو رہے ہیں اور جوق درجوق ہو رہے ہیں ۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے کراچی والوں کو صحیح سبق سکھایا ہے کہ اگر تم ڈکٹیٹر شپ اور اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی جماعت کو اپنی مرضی اور اختیار سے ووٹ دو گے تو ہم تمہیں جمہوری حق سے ہر طرح سے محروم رکھیں گے کیونکہ تم کیا جانوجمہوریت کا سواد ۔ اگر تم ہماری طرز حکمرانی کو کرپشن سمجھتے ہو تو یاد رکھو یہ کرپشن نہیں سائیں سرکار کی من مانی اکثریت ہے ۔ 



جمعرات، 6 جنوری، 2022

Panchayat - Season 1 - Amazon Prime Indian Web Series

پنچایت 

 ویب سیریز ۔ 8 اقساط 

Panchayat Web Series Amazon Prime bollywood Jitendra Kumar Raghubir Yadav

Panchayat - Web Series Amazon Prime Image courtesy Imdb


چندن کمار Chandan Kumarکی پنچایت کا ڈرامہ دیپک کمار مشرا صا حب Deepak Kumar Mishraنے خوب نبھایا ۔ جب جتیندرا کمار Jitendra Kumarنے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ وہ ایک بہترین اداکار ہیں ۔ جیتندراکمار کے ساتھ رگھویر یادوRaghuvir Yadavصا حب کی پرفارمنس نے تو پنچایت ویب سیریز کی تمام اقساط کے ہر منظر نامے میں چار چاند لگا دیئے ہیں ۔ پنچایت اور گاؤں کے ماحول کو جس خوبی سے رنگا گیا ہے اُس کا جواب نہیں ہے ۔ یہ پوری ٹیم کی محنت ہے کہ اسکرین پر جھلملاتی فلم آپ کو کسی بھی لمحے بور نہیں ہونے دے گی ۔ اب اِس ویب سیریز کے بارے میں چند دلچسپ باتیں بتاتا چلوں کیونکہ اِس سیریز کی تعریف تو اختصار کے ساتھ میں کر ہی چکا ہوں ۔ فلم کو اصل پنچایت کے دفتر میں عکسبند کیا ہے جو کہ ایک نہایت مشکل مرحلہ تھا۔ کم و بیش تین سو 300 گاؤں گھومنے recce کے بعد اِس دفتر کا انتخاب کیا گیا ۔ اِسی پنچایت کے گاؤں سے ملبوسات خریدے گئے تاکہ حقیقت سے قریب تر کردار نظر آسکیں ۔ ڈپٹی پنچایت کا کردار جس شخص نے ادا کیا ہے ، ویسے وہ تو پروڈیوسر ہیں جناب فیصل ملک Faisal Malik، چونکہ رائیٹر چندن کمار اور ہدایتکار دیپک کمار مشرا کا اصرار تھا کہ فیصل صاحب ہی یہ کردار ادا کریں اور اس کردار  کے ساتھ انصاف کریں لہذا یہ کردار فیصل ملک نے ہی ادا کیا جو کہ بہت ہی عمدہ رہا اور دیکھنے والوں نے بہت چاہا ہے ۔

Raghubir Yadav - Image Courtesy Hindustan Times

Jitendra Kumar - Image Courtesy

وکاس کا کردار ایک جونئیر آرٹسٹ نے ادا کیا ہے ۔ چند رائے صاحب نے اور دوسرے لوگوں کا باقاعدہ آڈیشن لیا گیا تھا ۔ اِس کے علاوہ دلچسپ بات یہ ہے کہ تیسری قسط میں جو الیکٹریشن  کے کردار میں نمودار ہوا تھا وہ کوئی اداکار نہیں ، بلکہ جناب خود ہدایتکار دیپک کمار مشرا صاحب ہیں ۔ کیونکہ جس نے یہ کردار اداکرنا تھا وہ بھرپور طریقے سے ادا نہیں کر پارہا تھا اسی لئے موقع، وقت اور پروڈکشن کو مد نظر رکھتے ہوئے ہدایتکار صاحب نے خود ہی  یہ کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور کمال کیا ۔ اِس کے علاوہ پرادھان Pradhanدفتر کے ساتھ ساتھ ، اصل موجودہ پرادھان صاحب کا گھر بھی دکھایا گیا ہے ۔ جس میں پرادھان صاحبہ منجو دیوی (نینا گپتا Neena Gupta)اور پرادھان صاحب برج بھوشن دُوبے  (رگھوویر یادو )رہایش پذیر ہیں ۔ چلتے چلتے آخری بات یہ کہ سردیوں کا موسم دکھایا گیا لیکن اِس کی ریکارڈنگ گرمیوں کی 40 ڈگری میں ممکن ہوئی ہے ۔ ان باتوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ویب سیریز پنچایت میں کتنے پاپڑ بیلے گئے ہیں ۔ بہت اچھی ویب سیریز ہے اور جیتندرا کمار کے اندر مجھے ذاتی طور پر ایک اور راج کمار راؤ نظر آچکا ہے ۔ کیریکٹر ایکٹنگ کرنا بہت بڑا کارنامہ ہے اور نئی نسل ( جیتندراکمار ) اور پرانی نسل ( رگھویر یادو صاحب ) یہ کام مل کر بخوبی انجام دے رہے ہیں ۔ ضرور دیکھیے گا لیکن شرط یہی ہے کہ اس ویب سیریز کابہت ہی صبر اور لطف لیتے ہوئے دیکھا جائے گا تب مزہ دوبالا ہوجائے گا ۔ شکریہ

GenreComedy-drama
Written byChandan Kumar
Directed byDeepak Kumar Mishra
Starring
Music byAnurag Saikia
Country of originIndia
Original languageHinglish
No. of seasons1
No. of episodes8
Production
Executive producerSameer Saxena
CinematographyAmitabh Singh
EditorAmit Kulkarni
Running time20–40 minutes
Production companyThe Viral Fever
Release
Original networkAmazon Prime Video
Original release3 April 2020
Courtesy Wikipedia




بدھ، 5 جنوری، 2022

Toofan 2021 - Farhan Akhtar Aka Ajju Bhai

Toofan the Movie 

طوفان آگیا

فرحان اختر عرف اجو بھائی   

Farhan Akhtar Toofan Rakeysh Omprakash Mehra Mrunal Thakur Paresh Rawal Amazon Prime Bollywood Indian Movie Cinema Latest Netflix India 2022

Courtesy thebridge.in - Toofan the Movie

جب فرحان اختر کا نام آتا ہے تو یوں جانیے کہ ایسا لگتا ہے کہ اب کے کچھ ایسا نیا مواد content آنے والا ہے جو سالوں سے پرانا ضرور تھا لیکن ہماری آنکھوں اور عقل سے اوجھل تھا ۔ انجم رجب علی کی طوفانی کہانی اور قلم سے نکلا ہوا یہ طوفان کسی طوفان سے کم نہیں تھا ۔ ہدایت کار راکیش اوم پرکاش مہرا نے پوری محنت سے فلم طوفان کو مہارت سے تیار کیا ہے ۔ اجو بھائی ، عزیز علی کی گلی کی داستان جو بڑے پردے پر لانے کی جدو جہد غیر معمولی دکھائی دیتی ہے ۔ 

فرحان اختر کا فلم پوسٹر دیکھ کر ہمیں انڈین فلم باکسر کی یاد آجاتی ہے جس میں متھن چکرورتی صاحب نے باکسر بن کر خوب نبھایا تھا ۔ فلم باکسر کا گیت شادمانی انڈیا پاکستانی شادیوں میں کئی برسوں گونجتا رہا ۔

Movie Posters Courtesy Bollywoodmdb.com

حقیقت سے قریب اس ڈرامے میں فرحان اختر ، پاریش روال صاحب اور مرونال ٹھاکر نے بہت عمدہ اداکاری کی ہے ۔ اس کے علاؤہ فلم میں آگوش موہن ، سپریا پاٹھک اور وجے راز نے بھی اپنے حصے کے کرداروں کا حق خوب نبھایا ہے ۔ 

آئی ایم ڈی بی پر فلم طوفان کی ریٹنگ ایوریج رہی ہے جبکہ فلم کا موضوع اور اس کی اسکرین اور مکالمے آپ کو بالکل بھی بور نہیں ہونے دیتے ہیں ۔ طوفان تمام ہندی فلموں کی مانند ایک روایتی جدو جہد کی کہانی پیش کرتی ہے لیکن اس کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں خود ساختہ فکشن زدہ ولن ہے اور نہ ہی ہیرو ہے ۔ اسی لئے فلم طوفان منفرد فلم ہے ۔ فلم کے گانے بھی اچھے ہیں اور ایک گانا تو آپ کو یقیناَ محظوظ کرنے والا ہے جس میں حسین دلل فرحان اختر کی محلے میں ویلکم کرتا ہے اور گانا غیروں کی شادی میں عبداللہ دیوانے سے متعلق ہے ۔ 

Movie Toofan Farhan Akhtar Omprakash Mehra Amazon Prime Mrunal Thakur Paresh Rawal Supriya Pathak Hassain Dalal

Farhan Akhtar in TOOFAN - movie talkies.com

لوکیشن سے لے کر ہر ایکشن سین دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔مسلم لڑکا اور ہندو لڑکی کی محبت کی کہانی ایک بار پھر سے پردے پر عیاں ہے اور ہندی سنیما اس مسئلے کو بار بار اپنی فلموں کا موضوع بناتا رہا ہے ۔ پاریش روال ایک نئے رنگ میں جلوہ گر ہوئے ہیں ۔ اس سے پہلے پاریش راول صاحب ان کردار میں بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں ۔ یہ ایک جذباتی اور اکھڑ مزاج کوچ کے روپ میں سامنے آئے ہیں ۔ عزیز علی عرف اجو بھائی کا مکا بڑی اسکرین پر جم کر لگا ہے ۔ 

فلم طوفان ایک اچھی ، صحت مند فلم ہے جسے ہم فیملی ڈراما بھی کہہ سکتے ہیں ۔ دل چاہتا ہے کی ہدایتکاری سے  فلمی کیریئر شروع کرنے والے فرحان اختر اب خود غلام کے عامر سے کم نظر نہیں آرہے ہیں ۔ اسپورٹس ، ڈرامہ اور رومانس سے بھرپور فلم طوفان اگر آپ نے نہیں دیکھی ہے تو اس ویک اینڈ پر ضرور دیکھیں ۔ 

اس فلم کو آپ ایمی زون Amazon Prime پر دیکھ سکتے ہیں ۔ 


Star : Farhan Akhtar , Mrunal Thakur, Paresh Rawal

Director : Rakeysh Omprakash Mehra

Producer : Ritesh Sidhwani , Rakeysh Omprakash Mehra, Farhan Akhtar

Banner : Rakeysh Omprakash Mehra Pictures , Excel Entertainment

OTT: Amazon Prime


منگل، 4 جنوری، 2022

Nasla Tower Fallen Corruption End

نسلہ ٹاور زمین بوس اور کرپشن ختم

کیا نسلہ ٹاور کے ذمےداران کو سزا ہوگی ؟ یا پھر عوام کو بے گھر کرنے کا سلسلہ چلتا رہے گا ؟ 

Nasla Tower Karachi KDA SBCA Chief justice Gulzar supreme Court Pakistan


 طارق روڈ پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کے علاقے میں واقع مدینہ مسجد کے مسمار کرنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں ۔ سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس پر عوام اپنی آراء اور تجاویز دے رہے ہیں ۔ ایک طرف مفتی اعظم پاکستان مولانا تقی عثمانی مدظلہم نے چیف جسٹس کو قائل کرلیا ہے اور عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی شروع کردی ہے دوسری طرف یہ چنگاری بھی خرمن کو جلانے کے لئے کافی ہے کہ چیف جسٹس جناب جسٹس گلزار صاحب نے اپنا فیصلہ واپس نہیں لیا ہے اور مدینہ مسجد کو منہدم کرنے کا فیصلہ اصولی ہے ۔ 

کیا مسجد کو منہدم کرنے کے فیصلے سے اشتعال انگیزی بڑھنے کا خدشہ نہیں ہے ؟

عرض فقط اتنی ہے کہ پاکستان کا معاشرہ انتہا پسندی اور مذہبی رجحان کے حوالے سے ہمیشہ سرگرم رہا ہے ۔ مذہب کے نام پر جہاں محمد علی جناح کو آل انڈیا مسلم لیگ نے ووٹ دلواکر کامیاب کیا تھا اسی کے ساتھ پاکستان کی فکری بنیاد ڈال دی گئی تھی ۔  اس لئے پاکستان کے معاشرے میں مذہب کی اہمیت ضرورت سے زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ مسجد سے عوام کا ایک قلبی اور روحانی رشتہ آج کا نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ہے ۔ ہم نے کبھی اس نظریہ کو اہمیت ہی نہیں دی کہ ہم مسلمان ہیں اور حق بات ہماری اخلاقیات اور ایمان کا حصہ ہیں  ۔ ظلم کی تاریکیوں کو ختم کرنے کا نام اسلام ہے ۔ ناانصافیوں کے خلاف لڑنے کا نام اسلام ہے ۔ لیکن ہم نے اسلام کو مسجدوں تک محدود کرلیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی مسجد کے شہید کرنے کا حکم ہمیں ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے اسلام کو بادل ناخواستہ نقصان پہنچایا جا رہا ہو اور یہ بات حکمران طبقہ ، اعلیٰ ادارے اور اسٹیبلشمنٹ ہم عوام سے زیادہ بخوبی سمجھتے ہیں ۔ ہم عدالتوں کے ریمارکس دیکھیں تو لگتا ہے کہ اس ملک میں جمہوریت ہے لیکن عدالت کے احاطے سے ہی احساس ہونے لگتا ہے کہ ملک میں جمہوریت صرف کتابی اور خوابی کیفیت کا نام ہے ۔ 

عدلیہ چاہے تو نسلی ٹاور کو مثال بنا سکتی ہے کہ اگر کسی نے کرپشن کی اور زمین یا اراضی پر غیر قانونی قبضے کیے اور غیر قانونی  طور پر زمین الاٹ کی تو اس کا انجام نسلہ ٹاور کی کھنڈر نما عمارت سے مختلف نہیں ہوگا ۔ نسلہ ٹاور کی تعمیرات میں کوئی فرشتہ تھا نہ ہی جنات تھے ، پھر کیوں ابھی تک سائیں سرکار کی کراچی پولیس ذمےداران کا تعین تک نہیں کرسکی ، گرفتاری تو بہت دور کی بات ہے ۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ حکومت کرنے کے بعد بھی آج چیف جسٹس کے حکم پر عام آدمیوں کے مکانوں کو گرایا جاتا ہے لیکن حکومت اور ریاست کے خلاف بظاہر کوئی خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آتے ؟ 


سندھ حکومت اور ریاست کا ایک بھی بیوروکریٹ ملوث نہ ہو ، یہ ممکن نہیں ہے ۔

کیا نسلہ ٹاور کے حوالے سے عدالت نے سندھ کے وزیراعلی جناب مراد علی شاہ صاحب کو بلا کر پوچھا کہ آپ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں یا پھر کرپشن کے حصے دار ؟ 

کرپشن اس نہج پر پہنچ چکی ہے لیکن پھر بھی قانون صدیوں سے اندھا تھا اور نجانے کب تک بصارت سے محروم رہے گا ۔ دنیا کی تاریخ میں قانون صرف دو وجوہات کی بنا پر بنائے جاتے ہیں ، پہلی وجہ انسانوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ، انہیں سہولتیں فراہم کرنے کے لئے اور دوسری وجہ انسانوں کو قابو میں رکھنے کے لئے اپنی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لئے اور انسانوں کے حقوق کو نظر انداز کرکے ان پر ظلم کرنے کے لئے ۔ اب اہل وطن خود فیصلہ کرلیں کہ پاکستان میں قانون سازی کی نیت کیا رہی ہے اور اب تک کیا ہے ۔ آیا کہ جو قانون کی تشریح اور وضاحت کرنے والے ادارے ہیں انہیں بھی حکومت کا کوئی وزیر یا ریاست کا کوئی بیوروکریٹ کبھی قصوروار نظر نہیں آیا ۔ قانون اندھا ہوتا ہے کیوں ؟ یہ ایک معصومانہ سوال ہر شہری کے دماغ میں ہے ۔ قانون اندھا ہوتا ہے کیونکہ قانون بنانے والے اندھے ہیں ؟ یا وہ عوام کی خدمت نہیں کرنا چاہتے ہیں ۔ اور اگر خدمت کی نیت نہیں ہے تو پھر مال بنانے کی تو ہوگی ہی جبھی تو لندن میں دنیا کی مہنگے ترین اپارٹمنٹ خرید لیے جاتے ہیں ، سرے محلات اپنے نام کرلیے جاتے ہیں لیکن کوئی بھی غریب ، محروم عوام کے لئے نہ صحت کی سہولیات کا سوچتا ہے اور نہ سول لاء کے بارے میں کسی ایوان میں آواز بلند ہوتی سنائی پڑتی ہے ۔ یہ ملک کو فلاحی بننا تھا پھر یہ کرپشن کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ۔ ہم غیر قانونی الاٹمنٹ اور قبضہ مافیا کے خلاف ہیں لیکن طارق روڈ پر واقع مسجد کو شہید کرنے سے پہلے عدالت عالیہ نسلہ ٹاور کے ذمےداران کو عبرت کا نشان بناتی اور سزا دیتی اور سزا ہوتی دکھائی دیتی ۔ پھر کہیں جا کر ہم اس فکر کی جانب بڑھتے کہ جب اسلام  کسی بھی غیر قانونی زمین پر مسجد بنانے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے لیکن اگر ریاست کے قانونی کاغذات موجود ہوں تو اس پر صفائی کا اور جراح کا بھرپور موقع دیا جانا چاہیئے ۔ اس طرح کے سخت فیصلوں سے عوام کی بے چینی اور غصہ بڑھنے کے امکانات بڑھ جائیں گے ۔ کوئی بھی چوک پر دھرنا دینے کا یا جلوس نکالنے کا اخلاقی جواز ڈھونڈ لے گا پھر ریاست بھی مشکل میں آجائے گی اور عوام کو بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اگر نسلہ ٹاور کے ذمےداران کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے تو پھر شاید سندھ کے بلدیاتی نظام کو اپنی مرضی سے بحال کرنے کا فیصلہ بھی واپس لے لیا جائے ۔ 

فیض احمد فیض نے اس ملک کے حالات کو دیکھ کر اپنی فکر بیان کی تھی جس کا مفہوم کچھ یوں بنتا ہے 

Faiz Ahmed Faiz Urdu Poet Poetry Mangobaaz Pakistan News Blogs Urdu
Faiz Ahmed Faiz Courtesy Mangobaaz 

مجھے ڈر ہے کہ یہ ملک ایسے ہی نہ چلتا رہے ۔