منگل، 14 جولائی، 2020

Caribbean BBQ - BBQ Chicken | Episode 04 | Pan On Fire

Caribbean BBQ 

BBQ CHICKEN 

Episode 04

Pan On Fire #panonfire #caribbeanfood #caribbeanchicken #chickenbbq #caribbeanbbq #chickenbarbecued #barbecued #barbecue 
YouTube Channel

پیر، 15 جون، 2020

جو اپنی مدد آپ کرے

کورونا وائرس ؛ 

پاکستان دنیا کا خطرناک ملک 

Pakistan affected massively by coronavirus

خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں ۔
GOD help those who help themselves. 
یہاں ایک ہی رٹ گزشتہ چار ماہ سے سن رہے ہیں کہ معاشی مسائل کے سبب اور غریبوں کی روزی روٹی پر سمجھوتا نہیں ہوسکتا ہے لہذا لاک ڈاؤن ہو یا کرفیو بالکل اس کے حق میں نہیں ہیں ۔ بھوک کی قلت سے شاید لوگ سڑکوں اور ہسپتالوں کے احاطوں میں انتقال نہ کریں لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے ایسے امکانات پیدا ہوچکے ہیں ۔ جس ملک میں عدلیہ انتظامی امور میں مداخلت کرکے جوڈیشل ایکٹیوزم کا بھرپور مظاہرہ کرے تو انتظامی ڈھانچہ تقریباً مفلوج ہوجاتا ہے ۔ حالیہ رمضان المبارک میں عدالت عظمیٰ نے جو انتہائی احمقانہ سوموٹو لیا یا نوٹس لیا اور اس پر حکم امتناعی جاری کیا تو اس کے بعد پاکستانیوں کو چاہیئے تھا کہ جناب چیف جسٹس صاحب کا دماغی معائنہ کروایا جاتا اور ان کے خلاف صدر پاکستان مواخذے کی کاروائی کرتے ، اسمبلیوں میں قرارداد پیش ہوتی لیکن یہاں کچھ بھی نہیں ہوا ۔ سپریم کورٹ اپنی استعداد سے کہیں زیادہ کٹر پن دکھاتے ہوئے پاکستانیوں کو جان لیوا وائرس میں مبتلا کردیتی ہے اور ملک میں کوئی ایسا فرد ، ادارہ ، تنظیم موجود ہی نہیں ہے کہ جو سپریم کورٹ کے   چیف جسٹس صاحب کو غیرت سے جھنجوڑ سکتا ، کسی ایک ڈاکٹر کو تو بلاکر استفسار کیا جاتا ٬ افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا ۔ اسد عمر جیسا لائق انسان ٹیلی ویژن پر آکر اعدادوشمار بتا کر اموات کی شرح سے ملک کے لوگوں ہراساں کرتا ہے ۔ وزیراعظم صاحب بھی کورونا وائرس کے عروج کا ذکر اس لب و لہجہ میں کرتے ہیں کہ جیسے یہ کوئی پی ایس ایل کا ٹورنامنٹ ہو اور ابھی اس کا جوش اور بڑھنا ہے ۔ ہوش کے ناخن لینے کی اشد ضرورت تھی لیکن حکومت اور ریاست دونوں نے ہی جانتے بوجھتے ہوئے ملک کے محروم اور کمزور افراد کو جس طرح  سے ذہنی دباؤ کا شکار بنایا ہے اس کی مثالیں تاریخ میں کچھ یوں دی جائیں گی کہ حکومتِ وقت نے جان کر بھی لوگوں کو مرنے کے لئے بازاروں اور دفتروں میں بغیر اصلاحات اور کاوشوں کے چھوڑ دیا ۔ جہاں حکومت کے پاس فوج کے دستے اور دیگر لاانفورس منٹ ایجنسیوں کے اہلکار موجود ہوں تو ایس او پیز میں عملدرآمد کروانا کوئی مشکل کام نہیں تھا ۔ تاہم ابھی تک ان لاکھوں وردی والوں سے کوئی کام نہیں لیا گیا ہے ۔ سیلاب ہو زلزلہ ہو تو فوج کو بلایا جاتا ہے لیکن وائرس سے نبردآزما ہونا ہے تو فوج کہیں نہیں ہے کیوں؟ اس کا جواب بھی حکومت کے پاس موجود ہے اور پاکستان کا ایک عام شہری ملک کے بپھرے ہوئے لوگوں کی عادات و اطوار سے خوب واقف ہے کہ یہاں زبان صرف "ڈنڈے" کی استعمال ہونی ہے اور وہ ہی سمجھی جاتی ہے پھر بھی حکومتِ وقت نے لوگوں کو من مانیاں کرنے دیں ۔ ہر خاص و عام ڈاکٹر یہاں عام نزلہ بخار والوں کو بھی مشکوک انداز سے تشخیص کرتے ہوئے اسے کورونا کا مریض گردان رہے ہیں ۔ لوگوں کو اپنے پیاروں کے کیلئے ہسپتال میسر نہیں آرہے ہیں ، آکسیجن سیلنڈر دستیاب نہیں ہیں ، ڈیٹول بوتلوں کو بلیک میں فروخت کیا جا رہا ہے سو باتوں کی ایک بات معاشرے کا بھیانک غیر انسانی اور غیر اخلاقی کردار کھل کر واضح ہوچکا ہے ۔ تربیت کبھی ہوئی ہی نہیں لیکن اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ریاستی امور کے ماہرین سب جانتے ہیں پھر بھی پتہ نہیں کیوں وہ ملک کو اس نازک اور بھیانک صورتحال سے دوچار کرنے کے درپے ہیں ۔
- بلال حسین
#covid19 #coronaviruspakistan #pakistan #covidpandemic #urdublog #blog #bilalhussain #currentaffairs

جمعرات، 30 اپریل، 2020

یاد رہے ہم 36 فیصد ہیں

"یاد رہے ہم 36 فیصد ہیں "

"Remember we are 36 percent"


تحریر :      بلال حسین



میری یہ پوسٹ ایک خاص نقظہ نظر کی حامل ہے ۔ اِسے آپ قطعی طور پر مذہبی یا غیر مذہبی پیمابے میں تول نہیں سکتے ہیں ۔ ایک سروے کے مطابق (جس کے کم سے کم دو لنکس میں شیئر کر رہا ہوں )پاکستان میں ٪36 فیصد لوگ
anxiety  اضطرابی اور depression (ذہنی دباؤ) کا شکار ہیں ۔ آج کی پوسٹ بھی اسی رپورٹ اور افراد کو دیکھتے ہوئے ، اُن کے مزاجوں کو سڑکوں ، بسوں ، ریستورانوں ، ہوٹلوں ، اسکول ، کالجوں ، محلوں ، سوشل میڈیا اور ٹیوی پر پروگرامز میں دیکھتے ہوئے اور نوٹس کرتے ہوئے کی جا رہی ہے ۔ اِس پوسٹ کا مقصد کسی کے عقائد کی دل آزاری یا نفی نہیں ہے ۔
مناسب صورتحال یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت ہے تو فطری بات ہے کہ اُنہیں کی سنی جانی ہے اور یہ کوئی راکٹ سائنس بھی نہیں ہے ۔ لہذا یہاں جو ملحدین حضرات ہیں اُن کے بارے میں ( حتمی نہیں ) عمومی تاثر یہ اُبھرتا ہے کہ ذاتی خواہشات ، کم علمی اور فیشن کے تحت چار چھ کتابیں شدید اختلافی نوٹ پر پڑھ لیں جس میں کوئی حرج کی بات بھی نہیں ہے ، تاہم دوسرے بیانیئے ایسے سرے سے ہلاکت بتایا جارہا ہے کہ اگر ایسا ہی معاملہ رہا تو انسان دوبارہ بندر بن جائے گا اور شہر کے شہر جنگلوں کا نقشہ پیش کر رہے ہونگے ۔ دوسری جانب مسلمان کہنے والے اکثر مومن کہلواکر بھی اُس فہم اور فراست کو چھو بھی نہیں پاتے ہیں جس کے وہ ازل سے دعویدار ہیں ۔ اصل مسئلے کی جانب کوئی نہیں بڑھ رہا ہے بس اپنے دائروں میں گھوم کر ایک دوسرے کو ایسی مغلظات اور اشتعال انگیز شرارتوں کااہتمام کیا جاتا ہے کہ افراد کو غصہ آجاتا ہے ۔ سوشل میڈیا کی پوسٹس میں اکثریت تحقیر کی آمیزش ، خود کو مہذب اور انتہا سے زیادہ پڑھا لکھا سمجھنا ، اپنے ہی معاشرے کے لوگوں کا جنگلیوں کے مترادف گرداننا ، اپنا مؤقف اس طرح سے پیش کرنا کہ جناب عقل کل انہیں کی میراث ہے اور دوسرے کی بات تو گویا گدھے کی لات بھی نہیں ہو ۔۔ اگر آپ عالم فاضل ہیں تو اس بات کا اظہار آپ کی پوسٹس کا لازمی جز ہونا چاہیئے ۔ علم و استدلال والے معاشرےکل  اختلاف کے ساتھ قائم رہتے ہیں اور آگے بھی بڑھتے ہیں لیکن جہاں اپنے آ پ کو ونسٹن چرچل سمجھنا شروع کردیا تو علمیت فقط کم علموں اور ان پڑھوں پر رعب جھاڑنے کے کام سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی ۔ میری پوسٹ پر مجھے اچھی طرح علم ہے کہ گالیاں بھی آنی ہیں اور مجھے القابات سے بھی نوازا جائے گا لیکن میں نے جو چیز مہینوں سے محسوس کی ہے وہی قلم بند کر رہا ہوں ۔ میں کسی ملحد و مسلمان کو ہدف نہیں  بنا رہا ہوں بلکہ آپ کی ذات کے اندر جو گند صدیوں سے بھرا ہوا ہے اُس کی نشاندہی کر رہاہوں ۔ اپنے بیانیہ کو اعلیٰ کی تختی لگا کر اپنے گھر کے باہر لٹکانے سے آپ البرٹ آئنساٹائن نہیں بن جائیں گے ۔ سوشل میڈیا گروپس میں میرے استاذہ کرام اور سینیئر ترین لوگ شامل ہیں جو علمیت میں اور تجربے میں مجھ سے کہیں زیادہ ہیں لیکن اُن کی بھی تحقیر آمیز گفتگو ایسی ہی ہوتی ہے جیسے وہ ذاتی پرخاریں اور بغض نکال رہے ہوں ۔ اگر آپ کو واقعی کوئی کام کر گزرنا ہے تو آپ معیاری تعلیم کے لئے تگ و دو کیوں نہیں کرتے ہیں ۔ اپنی تئیں میں مہاراجہ بننے سے کہیں بہتر ہے کہ بچوں کو تعلیم دینا شروع کریں ۔ میری تنقید کا مقصد آپ لوگوں کے  اکھڑے ہوئے مزاجوں اور طبعاََ صدیوں پرانے انداز تکلم کو بہتر بنانا ہے اور اس سے زیادہ مجھے کسی کے نظریات سے کوئی فرق پڑتا ہے نہ ہی مجھے کسی سے ذاتی کینہ و بغض ہے ۔ اگر پڑھے لکھے ہونے کے دعویدار ہیں اور اگر آپ کو یہ موقع میسر آچکا ہے کہ آپ نے چند کتابیں یا جماعتیں اپنے ہم وطنوں سے زیادہ پڑھ لی ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے پاس جو تحقیق یا بیانیہ ہے ، وہی ہے سچ ہے تو کیا لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیلنا اور ایسے لوگوں کے ساتھ کھیلنا جو جواب دینے کے ہنر سے واقف ہیں اور نہ ہی اُن میں اتنی سکت ہے تو کیا یہ طرزِ عمل درست ہے ؟ یقینا نہیں ۔ میں کوئی فرشتہ یا معتبر انسان نہیں ہوں لیکن اسی معاشرے کا ایک ایسا فرد ضرور ہوں جو لکھنے کے فن کو بخوبی سمجھتا ہے اور الفاظوں سے تعصب و نفرت کی بوُ کو بآسانی محسوس کرلیتا ہے ۔ رمضان المبارک مسلمانوں کا مقدس ماہ ہے اگر اکثریت عبادت میں مشغول ہے تو کیا آپ کی اخلاقی ذمے دارے نہیں بنتی ہے کہ اُن کے نظریات کا احترام کریں ؟ اگر آپ کسی ایسے سیکولر ملک میں موجود ہوں جہاں لورڈ بڈھا کے ماننے والے بھی ہوں تو کیا وہاں بھی آپ لورڈ بڈھا پر اسی طرح کی اعتراضات اُٹھا ئیں گے جس سے واضح تعصب کی لکیر دیکھے جاسکتی ہوگی یا پھر وہاں مہذب بن جائیں گےاور شائستگی کا دامن ہر گز ہاتھ سے جانے نہ دیں گے؟ اس کے برخلاف اگر کوئی شخص اسلام کو اپنے لیئے پسند نہیں کرتا ہے اور وہ اِس کے بارے میں اپنی رائے بصد احترام دینا چاہتا ہے تو کیا آپ سبھی غیر مسلمانوں کو قتل کردیں گے جبکہ وہ آپ کی نفی کا درپے ہر گز نہیں ہے ، وہ تو بس اپنے نظریات و بیانیہ کو پیش کر رہا ہے ۔ اور ایک شخص جب غیر مسلم ہے تو آپ کیوں اُسے کلمہ پڑھوانے پر بضد ہیں ؟ جبکہ وہ آپ کے نظریات و عقائد کی نفی کیئے بغیر اپنے گروہ سے مخاطب ہوتا ہے ۔ پاکستان کو اگر آپ امن کے راستے سے درست سمت لے جانا چاہتے ہیں تو عدم برداشت ، تعصب اور اپنے آپ کو برتر و اعلیٰ سمجھنا ترک کریں ۔  آپ یہ پوسٹ پڑھ کر ہنسیں گے بھی ، غصے میں مجھے بہت کچھ بکیں گے بھی اور یہ بھی مانیں گے کہ آپ ذہنی طور پر بالکل صحتمند ہیں اور آپ کا ذہنی دباؤ یا ذہنی مرض سے کیا واسطہ ۔ قبلہ آپ تو بالکل فٹ ہیں تو یہی ہمارا قومی المیہ ہے کہ ہم پر کوئی بھی اُنگلی نہ اُٹھا ئے کیونکہ ہم جو سوچتے ہیں وہی سچ ہے اور ہم جو چاہتے ہیں دنیا بھی وہی چاہے ۔ اِس ذہنی دباؤ کا شکار کوئی بھی ہوسکتا ہے ۔ خواہ وہ کتنا ہی مالدار یا آسودہ کیوں نہ ہو ۔


ہفتہ، 25 اپریل، 2020

Positive Vibe - مثبت خیال


"مثبت احساس"
سو لفظوں کی کہانی
بلال حسین

منفی رجحانات کے علاوہ مجھے مثبت خیال محسوس ہورہا ہے ۔ جب سے ملک معرض ِوجود میں آیا ہے ہم مہذب ہونے دعوےدار ہی رہے ہیں ۔ اب سیدھےطریقے سے ایس او پیز پر عمل کریں کیونکہ کورونا وائرس کے بعد مالی اور سماجی پریشانیوں کا سامنا کرنا ہے ۔ وقت آچکا ہے نعرے لگانے کی ضرورت نہیں ہے ،اچھے شہری کی طرح کام کرنا ہے ، موٹرسائیکلوں سے سائیلنسر نہیں نکالنے، سیاسی نظریات پر بحث نہیں کرنی ، مخالفین کے لئے سڑک بند نہیں کرنی بلکہ مہذب قوم بن کر کورونا وائرس سے خود کو محفوظ رکھنا ہے ۔

“Positive Vibe”
100 words story by
Bilal Hussain

In addition to the adverse things, I feel a positive vibe. Ever since our country came into being, we have only been claiming to be civilized. Simply follow the SOPs and be wise because after the coronavirus we will face social and financial challenges, so we should succeed. Dear countrymen the time has come, there is no need to shout but to work as good citizens, no need to ride motorcycles without a silencer, no need to discuss political ideologies, no need to block roads for opponents but be careful and protect yourself from the coronavirus as a civilized nation.

جمعہ، 24 اپریل، 2020

"کیونکہ یہ پہلے انسان تھے"


"کیونکہ یہ پہلے انسان تھے"
سو لفظوں کی کہانی
مصنف :   بلال حسین

کورانا وائرس کے سبب سوشل میڈیا کی دنیا اور آباد ہوگئی۔  کمسن اور  نادان افراد گھر کو سرائے ، باپ کمائی کوسیلری اور ماں کے پیار کو کمپنی کی غیر مشروط مراعات سمجھتے ہیں ۔ سوشل میڈیا صارفین  کا گھر سے بے خبر رہنا اِنکی بے معنی زندگی کا مقصد ہے۔ اسٹیٹس اپ لوڈ شاید موت پر بھی حاوی ہے بس انٹر نیٹ چلنا چاہیئے ۔ لاک ڈاؤن نادر موقع ہے جب یہ آدم بیزار اپنے گھر والوں کو اپنا سمجھیں ۔ انہیں بس اپنے gadgets  پاور بٹن کو دبا کرپھر سے انسان بننا ہے کیونکہ یہ پہلے انسان تھے۔
“Because They Were Human Before.”
100 words story by
Bilal Hussain
Social Media’s world has made more populous due to CORONAVIRUS. The immature class consider the house as a hotel, the father's income as a salary and the mother's love as an unconditional allowance of the company. Be heedlessly from home is actual intent of social media users. Updating status on social media is more important than dying, the internet should be on. Lockdown is giving them a rare opportunity to feel at home with their loved ones. They have to be human again, but they need to turn off the power buttons on their gadgets because they were human before.

بدھ، 22 اپریل، 2020

Can't afford pizza


Can't afford pizza, but can eat well

words by Bilal Hussain


As we all are observing how people have been suffering from CORONAVIRUS despite to get rid. So, the whole world must be united only on one agenda and that should be “invest more on human developments and human health." Because we can fight against the seen enemies and we know them a little also, but this is very tough to combat the unseen enemies. I am seeing ahead, some social and political movements who will be rising with a lot of force and will be established as strong opponents of selfish governments and the greedy industrial system. Now this is being discussed massively and worldwide that we should manufacture health care gadgets, ventilators and many tools for best health care. Global warming has already been struck to us. Heatwaves, hurricanes, flood, heavy rainfall, fire at forests, these all are alarming situations for humankind. For this earth, it should be our great responsibility and concern as to how we align ourselves. We must figure out the things that are going to frail us. Review your strategy according to nature and do not support bigoted leaders and stay away from the warring governments. Stadiums and sports are enough to prove who is the best nation. There is no need to make ammunition or invent bombs. Despite all this mess, we should make rockets and spacecraft. Who is the person who does not want to end hunger? Everyone needs to have food, even if they can't afford pizza, but they can eat well.

پیر، 20 اپریل، 2020

" کیا میں مائیکل بن گیا ؟"

" کیا میں مائیکل بن گیا ؟"
تحریر :       بلال حسین 


 وہ دروازے پر کھڑی ہوئی کسی کو سمجھا رہی تھیں اور وہ بے بس بیچارا بھی سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا اور احسان مندی کے بوجھ تلے دبا جا رہا تھا ۔ میں اسی وقت نہا کر نکلا تھااور آئینے کے سامنے اپنے بالوں کو سنوارنے میں مصروف ہی تھا کہ والدہ کی درشت لہجے میں اونچی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائیں اور میں نے فورا ہی گھر کے دروازے کی جانب کوچ کیا ۔ میں نے دیکھا کہ والدہ کے ہاتھ میں ٹھنڈی پانی کی بوتل ہے اور ایک مردانہ ہاتھ دروازے کے باہر سے اندر کی جانب جس میں ہمارے گھر کا پانی ( کانچ کا گلاس ) کا گلاس ہے ، ہوا میں معلق تھا۔ والدہ کافی سخت قسم کی مذہبی خاتون ہیں اور چند ایک باتوں پر تو بہت زیادہ اُصولی ہیں ، دنیا ادھر سے اُدھر کی ہوجائے گی لیکن اُن کے اصول کبھی نہیں ختم ہوسکتے ۔ جیسے جیسے میرے قدموں کی رفتار والدہ کی جانب بڑھ رہی تھی میں صاف محسوس کرسکتا تھاکہ اُن کے چہرے کی تشویش بھی بڑھ رہی ہے ، گویا میں سمجھ چکا تھا کہ وہ مجھے حالیہ صورتحال میں وہاں قبول نہیں کرنا چاہتی ہیں لہذا میں یہ سب کا ادراک و احساس کر کے مزید تیزی کے ساتھ دروازے تک پہنچ گیا ۔ دروازے کے باہر مائیکل نظر آیا جس نے ہمیشہ کی طرح مجھے خندہ پیشانی اور ادب سے سلام کیااور میں نے مائیکل کے سلام کا جواب دیا ۔ ماجرا دریافت کرنے پر مجھے مائیکل نے بتایا کہ آنٹی مجھے یہ کانچ کا مہنگا گلاس رکھنے کی بات کر رہی ہیں ۔ والدہ کی جانب دیکھا تو اُنہوں نے کج روی اور بے دلی کے ساتھ عرض کیا " گرمی دیکھو کس قدر پڑھ رہی ہے ، لو کے جھکڑ چل رہے ہیں ، جسم اور روح جھلسانے والا موسم ہے اسی لیے میں مائیکل سے کہہ رہی ہوں کہ یہ گلاس اپنے پاس رکھ لے اور جب بھی پانی پینا ہو تو گلاس نکال کر کسی بھی گھر سے ٹھنڈا مانگ کر پی لیا کرے ۔ ا س میں حرج ہی کیا ہے " ۔۔ مائیکل نے مسکرا کے عرض کیا کہ " میں بھی تو آنٹی کو یہی کہہ رہا ہوں کہ آنٹی جب مجھے ٹھنڈا پانی پینا ہوگا تو میں یہیں آجاؤں گا لیکن یہ قیمتی گلاس میں نہیں رکھ سکتا ۔۔ اگر یہ ٹوٹ ووٹ گیا تو میں کہاں سے پیسے دوں گا ؟" ۔ مائیکل کی طبیعت اور مفلس مزاج کو میں بخوبی سمجھ چکا تھا لیکن وہ بہت معصوم اور بھولا تھا ۔ جبکہ میری والدہ نے غصیلے انداز میں گہری سانس بھری اور دروازے سے چند گز کے فاصلے پر ، مائیکل کی نظروں سے اوجھل ہو کر کھڑی ہوگئیں اور اپنی گردن کو خم دے کر اشارہ سے مجھے اپنے پاس بلا لیا ۔۔ میں والدہ کے نزدیک گیا تو اُنہوں نے دانتوں کو پیس کر منافرت بھرے انداز میں کہا " اِس نے میرا گلاس ناپاک کردیا ہے ، یہ عیسائی ہے اور محلے بھر کا گند اُٹھاتا ہے ، مجھے نہیں چاہئے یہ گلاس " ۔۔ میں نے کہا بس امی اتنی سی بات ۔۔ میں ابھی آپ کا مسئلہ حل کردیتا ہوں  ۔ والدہ نے غیر متوقع طور پر مجھے متعجب نظروں سے دیکھا اور پھر اگلے لمحے مسکرا دیں کہ میرے بیٹے کی مائیکل بہت عزت کرتا ہے اور اب تو مائیکل مان ہی جائے گا ۔ میں مائیکل کے پاس دوبارہ دروازے تک آیا اور عقب میں والدہ بھی آکر مسرور نگاہوں سے دیکھنے لگیں ۔ میں نے مائیکل سے پوچھا کہ تمہاری بات بھی سچ ہے کہ جب ٹھنڈا پانی نہ ہوگا تو تم اپنی تشنگی کیسے مٹاپاؤ گے لہذا میں نے والدہ کے ہاتھ سے یخ پانی کی بوتل لی اور مائیکل کے ہاتھ سے گلاس لیا، بوتل کا پانی ، گلاس میں انڈیلا اور غٹا غٹ پی گیا ۔ والدہ کے منہ سے بے ساختگی میں لفظ "ارے " نکلا اور پھر اُن کے چہرے پر شدید ناپسندیدگی کےتاثرات واضح ہوگئے ۔ میں نے پانی پینے کے بعد والدہ کی طرح گلاس کو ہوا میں اُٹھا کر بڑے مؤدب انداز میں عرض کیا " یہ دیکھیں آپ کا گلاس پاک ہوگیا " ۔