پیر، 22 اپریل، 2019

Make children not Gods


Make Children Not Gods
"اولاد بنائیں دیوتا نہیں "
تحریر:  بلال حسین 


ٹی وی پر پر ایک ٹی وی اینکر انتہائی جذباتی انداز میں دعا میں کشمیر کو آزاد اور بھارت کو غارت کی دھمکی دے رہے تھے اور پھر اُنہوں نے نہایت خلوص نیت سے فرمانبردار اولاد کے لئے دعائیہ کلمات ادا کئے اور یوں دعا کے بعد ، دعا کے معاونین sponsorsکی طویل فہرست پیش کی گئی ۔ اب دعا کی اجتماعی ہیئت اپ ڈیٹ ہو کر  کورپوریٹ ہو گئی تھی ۔اولا د کا تذکرہ ہوا تو اولاد اور بچوں کے بارے میں کچھ عرض کرتا چلوں ۔  بچے شاید ہی کسی سخت گیر انسان کو پسند نہ ہوں اور اُس کے پیچھے بھی کوئی یقینا معقول وجہ ہی ہوگی ، لہذا بچوں کی شرارتیں دیکھ کر ہمیں نہ صرف ہنسی آتی ہے بلکہ ہمیں اُن پر پیار بھی آجاتا ہے ۔ میرے قریبی دوست کو میں نے ایک چپس کا پیکٹ دیا اور کہا کہ اپنے بچے کو دے دیجئے گا ، اُن صاحب نے ایسا رد عمل دیا جیسے میں نے اُن کے والد کی جیب کاٹنے کا کہہ دیا ہو۔ وہ صاحب نے عرض کیا    " ارے بھائی اگر میرے بیٹے نے یہ چپس کا پیکٹ دیکھ بھی لیا تو اِسے اُٹھا کر گھر کے باہر پھینک دے گا " میں نے پھر تشویش کےساتھ سوال کیا کہ کیا آپ کے صاحبزادے چپس پسند نہیں کرتے ؟ تو اُنہوں نے نہایت ہی متکبر انہ انداز میں عرض کی کہ میرے صاحبزادے صرف بڑے برانڈز کے چپس اور بسکٹس کھاتے ہیں ۔ چند لمحوں بعد میں سوچتا رہا کہ چار سال کا بچہ یہ فیصلہ کیسے کرسکتا ہے کہ کون سا برانڈ بڑا ہے یا معیار میں کم تر یا بر تر ہے ۔ چند لمحوں کی گہری کشمکش کے بعد اُن صاحب نے کھسیانہ روی اختیار کی اور مجھ سے پانچ سو روپے اُدھار کا تقاضہ کیا کیونکہ اُن کے پاس دفتر تک آنے جانے کے پیسے نہ تھے ، سو میں نے جیب سے نکال کر پانچ سوروپے دیتے ہوئے ، نہایت ہی عجز و انکساری سے کلام کیا  کہ   "بھائی آپ دیکھ لیں ، اگر اِن پانچ سو روپوں میں آپ کے بیٹے کے لئے چپس بھی آجائیں تو مجھے خوشی ہوگی ۔" اِس کے بعد اُنہوں نے فرمایا کہ کافی رات ہوگئی ہے ، میرا بیٹا سو گیا ہوگا ۔ صاحب چلے گئے اور میں اِسی شش و پنج میں مبتلا رہا کہ مستقبل میں اگر ہمارے بچوں کے ہاتھ ہماری گردنوں تک بڑھتے ہیں تو اُس میں ہم ہی قصوروار ہیں ۔ ہم اپنے بچوں کو معصوم نہیں بلکہ دیوتا بنا رہے ہیں ۔ بچوں کے منہ سے نکلی ہوئی ہر ایک خواہش ایسے پوری کی جارہی ہے جیسے حکم ِ خدا ہو ۔ بچے کی ضد کو پورا ہونے کے بعد بچے کو نہایت ضدی ، بد تمیز ، اکھڑ اور بد اخلاق پیش کر نا ہماری قومی اور خاندانی ذمے داری بن چکی ہے ۔ دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ بچے پر کسی بھی قسم کی سختی اور پابندی اُن کے تخلیقی اور ارتقائی عمل کو روک دے گی لہذا ہم نے بچے کو کھلی چھوٹ دے دی ہے کہ وہ جانور بنتا ہے یا انسان ۔ اور آخر میں وہی پرانا اور روایتی شکوہ اور گلہ اولاد فرمانبردار نہیں ہے ۔

If you look in the mirror, feel bad



If you look in the mirror, feel bad

دکھاؤں آئینہ تو برا لگتا ہے  "
تحریر :  بلال حسین
جب میں نے اُنہیں دلیل دی تو وہ کہنے لگے کہ یہ سب تو کتابی باتیں ہیں اصل دنیا اُس سے بہت مختلف ہوتی ہے ۔ سو میں نے مسلمانیت کا بھرپور فائدہ اُٹھایا اور قرآن کا حوالہ دیا تو اُن کا جلال دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا ۔ بقول بھائی صاحب (کزن ) کے تم ہمیں نبی سے کہاں ملا رہے ہو۔ اب مجھے یقین ہوگیا کہ ہم صرف نام کے مسلمان ہیں کیونکہ اگر ہم نے شعوری طور پر اسلام کو سمجھا ہوتا تو ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے نظریاتی اور حقیقی معنوں میں پیروکار اور عاشق ہوتےاور قرآن اور محمد ِ عربی کے بعد حق اور سچ تسلیم کرلیتے لیکن  بھائی صاحب مزید فرمانے لگے کہ تم اِس قسم کی بحث میں اسلام یا قرآن کا حوالہ کیوں لاتے ہو ؟ میں نے کہا کہ میں آپ کی دل آزاری نہیں چاہتا تھا لیکن آپ کے منہ سے ہزار بار اپنے اور دوسروں کے لئے ایک جملہ سن چکا تھا کہ اللہ کی رضا میں ہی راضی رہو تو میں نے اُس کے جواب میں یہ بات رکھ دی کہ اللہ تو بہت سی باتوں پر صبر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ بھائی صاحب پھر مجھے ناراضی کے ساتھ دیکھنے لگے اور یہ کہہ کر چائے کی بھری ہوئی پیالی چھوڑ کر چلے گئے کہ تم چار کتابیں پڑھ کر ہمیں جاہل سمجھ رہے ہو۔ میں بہت زیادہ حیران ہوگیا کہ میں تو اُسی خدا کی بات کر رہا تھا جس کا ذکر بھائی صاحب ہمیشہ کرتے ہیں اور جب بھی کسی کی مدد کا تذکرہ مضمون بن کر اُبھرنے لگتا تھا تو بھائی صآحب فورا ہی یہ کہہ کر مضموں بدل دیا کرتے تھے کہ اب اِس میں خدا کی مرضی شامل ہے یا پھر اللہ تعالیٰ صابرین کے ساتھ ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ نیکی کے دو جملے بھی اب خالص نہیں رہے۔ طے شدہ نیکی (Engineered Goodness) کا اجر ملے نہ ملے ، نادار و مجبور رشتے داروں اور عزیزواقارب سے جان ضرور چھوٹ جاتی ہے۔ میں یہ نہیں چاہتا ہے کہ ہر کوئی غریب اور نادار لوگوں کا مسیحا بن جائے لیکن میں اتنا ضرور چاہتا ہوں کہ مذہب کے نام پر اگر خود صابر و زاہد نہیں بن سکتے تو کسی دوسرے کو بھی صبر کی تلقین نہ کی جائے۔ عجیب طرح کا ملک  ہے، ریاست و سیاست سے لے کر ایک کمرے کے مکان والے بھی مذہب کے نام پر استحصال سے باز نہیں آتے ہیں۔


I am hopeful


I am hopeful

"ہاں مجھےاُمید    ہے"


اُمید ایک ایسا انسانی احساس ہے کہ جو کبھی ہمیں بوڑھا نہیں ہونے دیتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ اُمید پر دنیا قائم ہے لیکن میرا یہ ماننا ہے کہ اُمید پر دنیا ہی نہیں بلکہ تخلیق ِ کائنا ت کا پورا نظام کھڑا ہوا ہے ۔
خیر اور شر کی نہ ختم  (روزِحشر ) ہونے والی جنگ کا نتیجہ بھی اُمید پر ہی بظاہر تکیہ کئیے ہوئے نظر آرہا ہے ۔ دنیا میں گوری شرانگیزیاں اسقدر بڑھ چکی ہیں کہ اب خیر کا سانولا پن مزید گہرے رنگ کا ہوتا جا رہا ہے ، مجھے تو خدشہ ہے کہ کہیں شر کو دیکھتے ہوئے اور اُس کی مشقوں کو دیکھتے ہوئے ہم خیر اور نیکی ہی نہ بھول جائیں کیونکہ واٹس ایپ اور فیس بک پر کی جانے والی دعائیں دنیا کے ہر کونے تک تو مائیکروسیکنڈز یا سیکنڈز میں پہنچ ہی جاتی ہیں لیکن فلک تک پہنچتی ہیں کہ نہیں اِس کا جواب ابھی مبہم ہے ۔ ایک دن انسان ایسی مشینیں بھی ایجاد کرلے گا جو اُس نے ابھی تک نہیں کی ہیں تاہم وہ انسان نہیں مِل رہا ہے جو کئی دہائیوں پہلے اخلاق اور انسانیت کے بطن سے پیدا ہوا تھا، جو انسانوں کے ساتھ رہا کرتا تھا، جسے انسانوں سے محبت تھی ، جو انسانیت کا پرچار کرتاتھا ، جسے موبائل سے زیادہ لوگوں کی فکر تھی ، ایک روز وہ انسان ضرور ملے گا جو غبار صنعت و سرمایہ داری کے ارتقاءسے آلودہ نہ ہو۔ ہاں مجھے اُمید ہے ۔